Search This Blog

Loading...

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته ډېرخوشحال شوم چی تاسی هډاوال ويب ګورۍ الله دی اجرونه درکړي هډاوال ويب پیغام لسانی اوژبنيز او قومي تعصب د بربادۍ لاره ده


اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ




اللهم لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت و لك الحمد بعد الرضى



لاندې لینک مو زموږ دفیسبوک پاڼې ته رسولی شي

هډه وال وېب

https://www.facebook.com/hadawal.org


د عربی ژبی زده کړه arabic language learning

https://www.facebook.com/arabic.anguage.learning
There was an error in this gadget

Wednesday, December 1, 2010

حجاب اور تعلیماتِ نبوی ﷺ

حجاب اور تعلیماتِ نبوی ﷺ




محترم فضل الرحمن


جب سے مسلمان مختلف غلامیوں سے دو چار ہوئے ہیں ، اس وقت سے وہ متعدد حوالوں سے مسلسل مسائل ومصائب سے دو چار چلے آرہے ہیں ، مسلمانوں کی اس غلامی کا آغاز ریاستی وحکومتی غلامی سے ہوا تھا۔ اس غلامی نے مزید کئی طرح کی غلامیوں کو جنم دیا اور ظاہری اعتبار سے اس غلامی سے آزاد ہو جانے کے باوجود بھی مسلمان آج تک متعدد غلامیوں سے دو چار ہیں ، جن میں سب سے زیادہ ضرررساں اور خطرناک دو طرح کی غلامیاں ہیں: فکری غلامی ، مالیاتی غلامی، ان میں بھی فکری غلامی اس حد تک خطرناک ہے کہ اس کے نتیجے میں مسلمان بسا اوقات اپنا عقیدہ تک کھو بیٹھتا ہے ، اس غلامی نے ہمارے ہاں بہت سی گمراہیاں اور غلط فہمیاں پیدا کی ہیں ، جن میں ایک اہم غلط فہمی پردے سے متعلق احکامات الہیٰہ سے ہے ، یہ مسئلہ آزادی نسواں سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی بہت سی شاخوں میں سے ایک اہم شاخ ہے۔

مسئلہ حجاب کے بہت سے پہلو ہیں، ایک تویہ کہ خود حجاب ضروری ہے ، یا نہیں ؟ تو الحمدلله یہ مسئلہ متفقہ ہے، کیوں کہ اس کا ذکر صراحت کے ساتھ قرآن حکیم میں موجود ہے ، لیکن اس مسئلے کا دوسرا پہلو اختلافی ہے اور وہ ہے حجاب، یعنی پردے کی حدود ، یعنی کیا پردے میں چہرہ شامل ہے یا نہیں ؟ یہ بحث تو آئندہ سطور میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہو رہی ہے، لیکن یہاں یہ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اگر بالفرض کسی کے نزدیک چہرہ پردے کی تعریف سے خارج ہے ، تب بھی کیا یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر امتِ مسلمہ کے تمام مسائل کا حل موقوف ہو؟ خصوصاً آج وہ جس قدر بحرانوں سے دو چار ہے ، ان حالات میں قوم کو اس بحث میں الجھا کر انہیں چہرے کے پردے کو ترقی کرنے کی طرف راغب کرنا کسی طرح خدمتِ دین اور دانش مند قرار دی جاسکتی ہے؟ پھر یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر بالفرض چہرہ حدود حجاب سے خارج بھی ہے تب بھی اگر کوئی خاتون اپنی خوشی سے چہرہ چھپا رہی ہے تو اس میں قباحت کیا ہے؟ اگر بالفرض چہرہ چھپانا ضروری نہیں ہے تو بھی کیا اس کا کھولنا فرض اور حکمِ شرعی ہے، اس پر اتنا زور قلم صرف کیا جارہا ہے؟

دراصل ہمارے ہاں کافی عرصے سے اجتہاد کے نام پر تجدد کے مظاہر سامنے آرہے ہیں، ان میں یہ بات زور دے کر پیش کی جاری ہے کہ ہمارے ” فہم اسلام“ کے مطابق فلاں مسئلہ یوں ہونا چاہیے، حالاں کہ دیکھا جائے تو یہ الفاظ خود اس امر کی تردید کر رہے ہیں کہ یہ حکم خدا وندی ہے، کیوں کہ الله کا حکم کسی کی فہم کا پابند نہیں ، ہاں! محض اجتہادی معاملات میں صرف مجتہدین کو جو اجتہاد کی تمام لازمی شرائط پر پورا اترتے ہوں قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی رائے کے اظہار کی اجازت ہے۔

یہ مسئلہ بھی ایسی فکر کے ہاتھوں متنازع بن گیا ہے ، حالاں کہ قرآن وسنت کا بغور مطالعہ اس باب میں ہر طرح کی الجھن رفع کرنے اور اسلام کا پیغام واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔

پردے کی ضرورت
انسان کی معاشرتی زندگی میں ستر اور پردہ دونوں خاص اہمیت کے حامل ہیں، انسان کو اگر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو فطرت انسانی اور اسلامی تعلیمات دونوں یکساں نظر آتی ہیں۔

پردے یا حجاب کا تعلق دراصل دو چیزوں سے ہے ، ایک حیا اورشرم کا فطری داعیہ اور دوسری انسانی زندگی ( مرد وعورت دونوں کی) کی گناہوں سے حفاظت سے ۔ حیا اور شرم چوں کہ فطری تقاضا ہے ، اس لیے اسلامی تعلیمات میں بھی اس کی اہمیت بنیادی اور اساسی نوعیت کی ہے۔

شرم وحیا
حیا ایک بنیادی اور فطری وصف اور خلق ہے جو آدمی کو بہت سے برے کاموں اور فواحش ومنکرات سے روکتا ہے او راچھے اور پسندیدہ کاموں پر آمادہ کرتا ہے ، لغت میں حیا کی تعریف یہ کی گئی ہے” الحیاء انقباض النفس عن القبائح، وترکہ لذلک“․

قبیح چیزوں سے نفس کے انقباض کرنے او راس بنا پر انہیں چھوڑ دینے کانام حیا ہے۔

عرف عام میں تو حیا کا مطلب یہی سمجھا جاتا ہے کہ آدمی شرم ناک اور فحش کاموں سے اجتناب کرے، لیکن قرآن وحدیث کی اصطلاح میں حیا کا مفہوم بہت وسیع ہے ، انسان کو سب سے زیادہ شرم وحیا اپنے ماں باپ، بڑوں اور محسنوں کی ہو تی ہے، ظاہر ہے الله تعالیٰ تو سب بڑوں سے بڑا اور سب محسنوں کا محسن ہے ،ا س لیے بندے کو سب سے زیادہ شرم وحیا اسی کی ہونی چاہیے ، حیا کا تقاضا یہ ہے کہ جو کام الله تعالیٰ کی مرضی او راس کے حکم کے خلاف ہو ، انسان اس سے کامل اجتناب کرے ، جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں رحم دلی اور عفو ودرگزر پر بہت زور دیا گیا ہے، اسی طرح اسلام کا امتیازی وضف حیا ہے ۔ زید بن طلحہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر دین کا ایک امتیازی وصف ہوتا ہے اور دین اسلام کا امتیازی وصف حیا ہے ۔

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: حیا ایمان کی ایک شاخ ہے او رایمان کا مقام جنت ہے اور بے حیائی وبے شرمی بد کاری میں سے ہے اور بد کاری دوزخ میں لے جانے والی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی الله علیہ سلم نے فرمایا: حیا ایمان ہی کی ایک شاخ ہے ۔

الله تعالیٰ نے شرم وحیا کا جو مادہ انسان کی فطرت میں رکھا ہے وہ دوسرے حیوانات میں نہیں رکھا ، اس لیے حیوانات اپنے جسم کے کسی حصے اوراپنے کسی فعل کو چھپانے کا ایسا اہتمام اور کوشش نہیں کرتے جیسا اہتمام وکوشش انسان کرتا ہے ۔ اسی لیے تمام اقوام وملل اپنے عقائد ونظریات اور رسوم وعادات و اطوار کے اختلاف کے باوجود اس پر متفق ومتحد ہیں کہ آدمی کو حیوانات کی طرح بے لباس نہیں رہنا چاہیے۔

معاشرتی زندگی میں ستر او رپردہ خاص اہمیت کا حامل ہے ، یہ انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتا ہے ، جس طرح ستر اور پردے کے سلسلے میں انسان کو حیوانات پر فوقیت حاصل ہے اسی طرح اس بارے میں عورت کو مرد کے مقابلے میں برتری حاصل ہے ، عورت کی جسمانی ساخت میں نزاکت او رکشش مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جو بہت سے فتنوں کا سبب اور ذریعہ بن سکتی ہے ، اس کے تدارک کے لیے خالق کائنات نے ان میں حیا کا مادہ بھی مردوں سے زیادہ رکھا ہے، اسی لیے عورت کے لیے پردہ ایک بنیادی ضرورت اور فطری تقاضا ہے ، جس طرح حیات انسانی کے دیگر شعبوں میں ہدایات واحکام کی تکمیل الله تعالیٰ نے نبی مکرم حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کے ذریعے فرمائی اسی طرح اس شعبہ زندگی کے لیے بھی الله تعالیٰ نے کامل او رواضح ہدایات اورر اہ نمائی آں حضرت صلی الله علیہ وسلم ہی کے ذریعے فرمائی ہے۔

حیا کے ذریعے انسان کے ایمان اور کردار کی خوبیوں او رخامیوں کو بھی پر کھا جاسکتا ہے۔ اس لیے رسول ا لله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا اور ایمان دونوں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، دونوں میں سے اگر ایک نہ رہے تو دوسرا بھی نہ رہے گا۔ کیوں کہ مشاہدہ اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انسان جب حیا جیسی نعمت ودولت سے محروم ہوتا ہے تو وہ بتدریج کم تر برائی سے زیادہ مہلک برائی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے او رابتدا میں چھوٹے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے، پھر رفتہ رفتہ بڑے گناہوں میں مبتلا ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ گناہوں کی دلدل میں بری طرح دھنس جاتا ہے، اس طرح حیا کو گناہوں سے بچانے والی بندش اور رکاوٹ بھی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ ایک دوسری روایت میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

” الله تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے ،جب اس سے حیا چھن جاتی ہے تو وہ انتہائی قابلِ نفرت ہو جاتا ہے ، پھر جب وہ قابلِ نفرت ہو جاتا ہے تو اس سے امانت چھین لی جاتی ہے اور جب اس سے امانت چھین لی جاتی ہے تو وہ خیانت کرنے لگتا ہے ، پھر اس سے الله کی رحمت چھین لی جاتی ہے، پھر وہ انتہائی ملعون ہو جاتا ہے اور جب وہ لائق ملامت ہو جاتا ہے تو اسلام کا قلادہ اس کی گردن سے نکل جاتا ہے ۔“

یعنی انسان کی زینت شرم وحیا سے ہے ، اگر انسان کے پاس یہ دولت نہ رہے تو اس کی حیثیت دیگر جان داروں سے مختلف نہیں رہتی اور پھر اس کا دل اور جسم ہر گناہ کی آما ج گا ہ بن جاتا ہے ، جس کے بعد یہ مرحلہ آجاتا ہے کہ اذا لم تستحی فاصنع ماشئت۔

”جب تم حیا نہیں کرتے تو جو چاہے کرو“۔

خواتین کے لیے عام مردوں سے شرم وحیا کے اظہار کا قانون طریقہ حجاب یعنی شرعی پردہ ہے او رمردں کے لیے ا س سلسلے میں غض بصر۔ (سورہٴ نور آیت:30)

یعنی نگاہیں نیچی کرنے کا حکم ہے، اسی طرح اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ مردو زن دونوں اخلاقی اعتبار سے مضبوط ہوں اور کردار کی بے اعتدالیوں کے شکار نہ ہوں، اس مقصد کے لیے بھی حجاب ضروری اور برائیوں سے حفاظت کرنے والا ہے ، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو معاشرے کو بے راہ روی سے محفوظ رکھنے اور ہر طرح کی بے اعتدالیوں سے بچانے کے لیے اسلام نے دو اقدامات اٹھائے ہیں، ایک تو خواتین کے لیے حجاب لازم کیا اور مردوں کو غض بصر کا حکم دیا، دوسرے مردوزن کے باہم آزادانہ اختلاط کو یکسر ختم کر دیا۔

اگر عفت وعصمت کوئی قابل قدر صفت نہیں ہے تب تو اس کی حفاظت بلاشبہ بے معنی ہے اور اس سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات بھی لغو، بے فائدہ اور غیر ضروری قرار دیے جاسکتے ہیں، لیکن اگر عصمت وعفت اور حیا وشرم ایسی مطلوبہ صفات ہیں، جو انسانیت کی تکمیل کرتی ہیں اور اس نسبت سے ہمارے لیے ضروری اور قابل قدر ہیں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ایسی اقوام کے معاشرتی حالات کیا کہتے ہیں جن کے ہاں پردہ رائج نہیں ہے او رغور کریں کہ ان کے ہاں عفت وعصمت کی کیا صورت حال ہے ؟ یہ جائزہ ہمارے ذہنوں کی گر ہیں کھولنے کے لیے کافی مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔ سطور ذیل میں پہلے اقدام یعنی حجاب اور پردے کے متعلق گفتگو ہو گی، البتہ دوسرے اقدام کے بھی ضمناً کہیں کہیں حوالے آئیں گے۔

ستر
حیا اور شرم کا تقاضا یہ ہے کہ جسم کے جن حصوں کو چھپانا شرعاً ضروری قرار دیا گیا ہے ( ناف سے رانوں تک) ان کی طرف نظر نہ کی جائے۔ عربی زبان میں عورت اور اردو فارسی میں ستر اس چیز یا جسم کے حصے کو کہتے ہیں جس کا چھپانا اور پردے میں رکھنا شرعی، طبعی اور عقلی طور پر فرض ہے اور اس کا کھولنا اور ظاہر کرنا معیوب وناپسندیدہ ہے ، ایمان کے بعد یہ سب سے پہلا فرض ہے، جس پر عمل ضروری ہے ۔

حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں فرمایا:

اپنی ران نہ کھول او رنہ کسی زندہ یا مرد آدمی کی ران کی طرف نظر کر۔

اعضائے مستورہ یا ستر کا چھپانا تمام انبیاکی شریعتوں میں فرض رہا اور ہر مرد وعورت پر فی نفسہ عائد ہے، خواہ کوئی دوسرا دیکھنے والا ہو یا نہ ہو ۔ نماز میں ستر کا چھپانا شرط ہے ، اسی لیے اگر کوئی شخص اندھیری رات میں ننگا نماز پڑھے، جب کہ ستر چھپانے کے قابل کپڑا اس کے پاس موجود ہو تو اس کی نماز بالاتفاق ناجائز ہے، حالاں کہ اس کو کسی نے ننگا نہیں دیکھا۔

اسی طرح اگر کسی شخص نے یسی جگہ نماز پڑھی جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہے تو اس صورت میں بھی اگر نماز کے دوران ستر کھل گیا تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔ نماز کے علاوہ لوگوں کے سامنے ستر پوشی کے فرض ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں، لیکن تنہائی میں جہاں کوئی دوسرا دیکھنے والا نہ ہو وہاں بھی شرعی یا طبعی ضرورت کے بغیر ستر کھولنا یاننگا بیٹھنا جائز نہیں۔

ہر انسان فطری طور پر اپنے ستر کو چھپاتا ہے۔ اسی لیے حضرت آدم وحوا علیہما السلام نے جب شجر ممنوعہ کو کھالیا اور اس کے نتیجے میں ان کا ستر کھل گیا تو ان دونوں نے فوراً جنت کے پتوں سے اپنی اپنی پردہ پوشی شروع کر دی، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

پھر دونوں ( آدم وحوا) نے اس درخت میں سے کچھ کھا لیا تو ان دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور ( اپنا ستر ڈھانپنے کے لیے) دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے۔

اس لیے ہر زمانے میں بلا امتیاز رنگ ونسل اور مذہب وملت لوگ ستر پوشی کو ضروری سمجھتے رہے ہیں، عورت کا تمام بدن اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں ستر ہے، سوائے چہرے اور ہاتھوں کے ، چہرہ اور ہاتھ ستر میں داخل نہیں ، اس لیے عورت کے لیے نماز میں چہرے اور ہاتھ کھلے رکھنا بالاتفاق جائز ہے۔

اسی طرح مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے ۔ یعنی اس پر ناف سے لے کر گھٹنے تک جسم کو ہر وقت چھپانا فرض ہے ۔ ستر ہر مرد وعورت آزاد وغلام پر فرض ہے۔

حجاب یا پردہ
ستر اور حجاب دو مختلف چیزیں ہیں، ستر تو محرم مردوں کے سامنے کھولنا بھی جائز نہیں۔ حجاب ستر سے زائد چیز کا نام ہے جو مردوں اور عورتوں پر فرض ہے، کنیزوں پر حجاب فرض نہیں۔ حجاب صرف عورتوں کے لیے ہے، مردوں کے لیے نہیں۔

پردہ تمام امتوں میں فرض نہیں رہا۔ اسلام میں بھی ابتدا میں فرض نہیں تھا، بلکہ پانچ ہجری میں جب آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش سے نکاح کیا تو ولیمے کے موقع پر پردے کا حکم نازل ہوا۔ لیکن بطور رواج اس کا ثبوت اسلام سے قبل بھی ملتا ہے ۔ پردہ صرف عورت پر فرض ہے اور صرف نامحرموں سے ہوتاہے۔

حجاب کی بحث میں حجاب کے مخالفین ایک بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے جو عورتیں بے پردہ باہر نکلا کرتی تھیں اس کو استدلال کے طور پر پیش کر دیتے ہیں یابنی غفار کی بعض خواتین سے استدلال کرتے ہیں، جو مرہم پٹی کرنا جانتی تھیں، اس لیے فوج کے ساتھ ہو جایا کرتی تھیں ، غزوہ خیبر کے موقع پر جب آپ صلی الله علیہ وسلم کو ان کے بارے میں معلوم ہوا تو آپ نے ایک روایت کے مطابق ان کے آنے پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا، لیکن چوں کہ آچکی تھیں اس لیے فوج کے ساتھ رہیں اور زخمیوں کی خدمت بھی کی۔ اس بنا پر اس سے استدلال صحیح نہیں۔

پردہ قبل از اسلام
پردہ بالخصوص چہرے کا پردہ نہ صرف اسلام کا حکم ہے ، بلکہ اسلام سے بھی بہت پہلے عربوں میں بھی رائج تھا، حتی کہ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ نہ صرف عرب بلکہ یونان او رایران وغیرہ میں بھی قبل از اسلام ہی پردے کا رواج تھا اور ایرانی حرم میں تو پردہ اس قدر شدت کے ساتھ رائج تھا کہ نرگس کے پھول بھی محل کے اندر نہیں جاسکتے تھے، کیوں کہ نرگس کی آنکھ مشہور ہے۔

یہی نہیں بلکہ اسلام کی آمد کے بعد مسلم معاشرت اور اسلامی حکومت کے اثرات کے تحت شمالی ہندوستان میں بھی کئی غیر مسلم خاندانوں میں پردے کا رواج ہو گیا تھا، جو ایک عرصے تک قائم رہا۔

اس امر کی شہادت کہ عربوں میں قبل از اسلام بھی پردہ اور بالخصوص چہرے کا پردہ رائج تھا، کلامِ عرب سے بخوبی مل سکتی ہے ، ربیع بن زیاد عبسی عصرِ جاہلی کا معروف شاعر ہے۔ وہ مالک بن زہیر کے مرثیے میں کہتا ہے #
        من کان مسروراً بمقتل مالک
        فلیأت نسوتَنا بوجہ النھار
        یجد النساءَ حواسراً یندبنہ
        یلطمن وجھَھن بالأسحار
        قدکن نخبان الوجوہ تستراً
        فالیوم حین برزن للنُظار

جو شخص مالک کے قتل سے خوش ہوا ہے ، ہماری عورتوں کو دن میں آکے دیکھے ، وہ دیکھے گا کہ عورتیں برہنہ سرنوحہ کر رہی ہیں او راپنے چہروں پر صبح کے وقت تھپڑ مار رہی ہیں ، وہ شرم کی وجہ سے ہمیشہ اپنا چہرہ چھپایا کرتی تھیں ، لیکن آج وہ دیکھنے والوں کے سامنے بے پردہ آئی ہیں۔

علامہ تبریزی نے تستراً کی شرح میں لکھا ہے کہ عفة وحیاء یعنی وہ عفت اور شرم کی وجہ سے چہرہ چھپایا کرتی تھیں۔ اسی طرح ایک مخضرمی شاعر عمروبن معدی کرب کسی جنگ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے #
        وبدت لمیس کانھا
        بدر السماء اذا تبدیٰ

اور لمیس کا چہرہ ظاہر ہو گیا ، گویا کہ چاند نکل آیا۔

عمرو بن معدی کرب اگرچہ مخضرمی شاعر ہے ، مگر یہ اشعار اسلام سے قبل کے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ عربوں کے ہاں نہ صرف پردہ ( اور چہرے کا پردہ) رائج تھا، بلکہ یہ پردہ آزاد اور شریف عورتوں او رباندیوں میں وجہ امتیاز بھی تھا، آزاد اور شرفا کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین باپردہ ہوتی تھیں اور زر خرید باندیاں اور لونڈیاں چہرے کھول کر مردوں کے سامنے آتی تھیں ، یہ اس دور کی عام معاشرت تھی ، جو اسلام کے بعد بھی رائج رہی اور اسلام نے اس پردے کو قانونی شکل دے دی ، اس حوالے سے بھی کلام عرب ہمارے رہ نمائی کرتا ہے ، ایک جاہلی شاعر سبرة بن عمر وفقعسی اپنے دشمنوں پہ طعن کرتے ہوئے کہتا ہے #
        ونسوتکم فی الروع باد وجوھھا
        یخلن إماء والاماء حرائر

لڑائی میں تمہاری عورتوں کے چہرے کھل گئے تھے او راس وجہ سے وہ لونڈیاں معلوم ہوتی تھیں ،حالاں کہ وہ آزاد عورتیں تھیں۔

گویا کہ دوران جنگ بھی عورتوں کے چہرے کھل جانا باعث ننگ وعار سمجھا جاتا تھا ، نہ کہ ترقی کی علامت اور شان وشوکت کی نشانی!

پردہ عہد نبوی صلی الله علیہ وسلم میں
پھر عہدِ نبوی صلی الله علیہ وسلم میں بھی پردہ موجود تھا، در حقیقت پردہ ابتدا ہی سے عرب معاشرت کا حصہ تھا ، لیکن بعد میں مدینہ منورہ میں یہود کے ساتھ اختلاط کے سبب عورتیں کھلے چہرے کے ساتھ گھومنے پھرنے لگی تھیں ، جس کو ختم کرنے کے لیے سورہٴ احزاب کی آیت :59 نازل ہوئی، جس کا بیان آگے آرہا ہے ۔ اس پردے سے ہماری مراد شرعی پردہ ہے ، جس میں چہرہ پردے کا حصہ اور اصل جز ہوتا ہے ، اس کا ثبوت کتب حدیث اور سیرت میں متعدد مقامات پر ملتا ہے ، یہاں اس حوالے سے چند واقعات پیش کیے جاتے ہیں ۔

حضرت انس رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اورابو طلحہ رضی الله عنہما رسول الله علیہ وسلم کے ساتھ کہیں جارہے تھے ، آپ صلی الله علیہ وسلم اونٹ پر سوار تھے اور آپ کے ساتھ ام المؤمنین حضرت صفیہ بھی سوار تھیں ، راستے میں اچانک اونٹ نے ٹھوکر کھائی، آپ صلی الله علیہ وسلم اور حضرت صفیہ اونٹ سے گر گئے ، ابو طلحہ نے آپ کے پاس پہنچ کر عرض کیا کہ الله تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کر دے، آپ کو کوئی چوٹ تو نہیں آئی ؟ آپ نے فرمایا نہیں ، تم عورت کی خبر لو۔ ابو طلحہ نے پہلے اپنے چہرے پر کپڑا ڈالا، پھر حضرت صفیہ کے پاس جاکر ان کے اوپر کپڑا ڈال دیا تو وہ کھڑی ہو گئیں ، پھر اس طرح پردے میں مستور ات کو سواری پر سوار کیا۔

اس واقعے میں بھی جو دوران سفر حادثے کی صورت میں اچانک پیش آیا ، ایک صحابی اور آپ کی زوجہ محترمہ کا پردے کے سلسلے میں اتنا اہتمام پردے کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ صحابہ کرام عام حالات میں پردے کا کتنا اہتمام کرتے ہوں گے ۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ غزوہ موتہ کے موقع پر جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو حضرت زید بن حارثہ ، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبدالله بن رواحہ رضی الله عنہم کی شہادت کی خبر ملی تو آپ صلی الله علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے ، آپ کے چہرہٴ انور پر سخت رنج وغم کے آثار تھے ، میں حجرے کے اندر دروازے کی ایک ریخ ( شق) سے سب دیکھ رہی تھی۔

اس سے معلوم ہوا کہ ام المؤمنین اس حادثے کے موقع پر بھی باہر آکر مجمع میں شامل نہیں ہوئیں، بلکہ دروازے کی ریخ( یادرز) سے پردہ میں رہتے ہوئے اس کا مشاہدہ کیا۔

حضرت ابو موسی اشعری بیان کرتے ہیں کہ غزوہ طائف (جمادی الاولیٰ 8 ھ) کے موقع پر جب آپ صلی الله علیہ وسلم جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے، تو آپ نے پانی کا ایک برتن منگوا کر اس سے ہاتھ اور چہرہ مبارک دھویا او ربرتن میں کلی کرکے حضرت ابو موسیٰ اور حضرت بلال رضی الله عنہما کو عطا فرمایا کہ اس کو پی لو اور اپنے چہرے پر مل لو ۔ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ  نے پردے کے پیچھے سے آواز دے کر ان دونوں سے کہا کہ اس میں سے کچھ اپنی ماں ( ام سلمہ) کے لیے بھی چھوڑ دینا۔

یہ حدیث ظاہر کر رہی ہے کہ حجاب کے احکام نازل ہونے کے بعد ازواج مطہرات گھروں میں اور پردے کے اندر رہتی تھیں۔

واقعہ افک کی مشہور روایت ہے کہ حضرت صفوان بن معطل گرے پڑے سامان وغیرہ کی خبر گیری کے لیے قافلے کے پیچھے کچھ فاصلے پر رہا کرتے تھے ، آپ نے ان کو اسی خدمت کے لیے مقرر کیا ہوا تھا۔6ھ میں غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر جب وہ صبح کے وقت قافلے کے ٹھہرنے کی جگہ پر پہنچے تو دیکھا کوئی آدمی سویا ہوا ہے ، قریب آئے تو حضرت عائشہ  کو پہچان لیا ، کیوں کہ پردے کا حکم آنے سے پہلے انہوں نے حضرت عائشہ کو دیکھا تھا ، وہ دیکھ کر گھبرائے اور ان کی زبان سے انا لله واناالیہ راجعون نکلا۔ اس کلمے سے حضرت عائشہ کی آنکھ کھل گئی، انہوں نے فوراً چہرے کو ڈھانپ لیا، حضرت صفوان نے اونٹ قریب لاکر بٹھا دیا، حضرت عائشہ پردے کے ساتھ اس پر سوار ہو گئیں۔

حضرت صفوان کا حضرت عائشہ کو اس لیے پہچان لینا کہ انہوں نے پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے ان کو دیکھا تھا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پردے کا حکم واقعہ افک سے پہلے نازل ہو چکا تھا۔ اور آنکھ کھلتے ہی حضرت عائشہ کا اپنے چہرے کو ڈھانپ لینا اس بات کی شافی دلیل ہے کہ عورت کا چہرہ پردے میں داخل ہے۔

سنن ابی داؤد اور ترمذی میں حضرت ام سلمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن وہ اور حضرت میمونہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس حاضر تھیں کہ اتنے میں نابینا صحابی حضرت عبدالله بن ام مکتوم رضی الله عنہ آگئے۔ اس وقت پردے کی آیت نازل ہو چکی تھی ۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کہ تم دونوں پردے میں چلی جاؤ۔ میں نے عرض کیا یا رسول الله ! وہ تونابینا ہیں، نہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ پہچان سکتے ہیں ، آپ نے فرمایا کیا تم دونوں بھی نابینا ہو اور اسے نہیں دیکھ سکتیں؟

اس سے معلوم ہوا کہ نہ تو مرد عورت کا چہرہ دیکھ سکتا ہے اور نہ عورت مرد کا چہرہ دیکھ سکتی ہے ۔

ایک عورت جس کو ام خلاص کہتے تھے، کسی غزوے ( احد) کے موقع پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے نقاب ڈالا ہوا تھا، اس کا بیٹا غزوے میں شہید ہو گیا تھا، اس لیے وہ اپنے بیٹے کے اجر وثواب کے بارے میں پوچھ رہی تھی ۔ لوگوں نے تعجب سے پوچھا کہ تم اپنے مقتول بیٹے کے بارے میں پوچھنے آئی ہو اور نقاب بھی ڈالا ہوا ہے؟! اس نے کہا کہ اگر میں نے بیٹا گم کر دیا ہے تو حیا تو ہر گز گم نہ کروں گی ۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کو بشارت دی کہ تیرے بیٹے کو دو شہیدوں کا اجر ملا ہے اس لیے کہ اس کو عیسائیوں نے قتل کیا ہے۔

اس واقع میں چند غور طلب باتیں ہیں:

شدید صدمے کے موقع پر بھی وہ نقاب ڈال کر مردوں کے سامنے آئی۔ اگر اسلام میں چہرے کا پردہ فرض نہ ہوتا تو اس شدید صدمے کے موقع پر نقاب کی کیا ضرورت تھی؟

صحابہ کرام نے اس سے یہ نہیں کہا کہ اسلام میں تو چہرے کا پردہ نہیں ہے ، تم نے نقاب کیوں ڈالا ہوا ہے۔ ایسے موقع پر تمہاراحواس میں ہونا بڑی ہمت کی بات ہے۔

اس موقع پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بھی یہ نہیں فرمایا کہ چہرے کا پردہ نہیں ہے یا چہرہ کھولنا حیا کے خلاف نہیں۔

ایک دفعہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے آں حضرت صلی الله علیہ وسلم سے اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ میں فلاں عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پہلے جاکر اس کو ایک نظر دیکھ لو، اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے ، حضرت مغیرہ فرماتے ہیں، میں انصار کی ایک عورت کے پاس آیا او راس کے ماں باپ کے ذریعہ اس کو پیغام دیا اور جو کچھ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ ان سے بیان کر دیا، تاہم والدین کو ناگوار ہوا کہ لڑکی ان کے سامنے آئے اور یہ اس پر نظر ڈالیں۔ لڑکی پردے میں سے یہ باتیں سن رہی تھی، کہنے لگی کہ اگر آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا ہے تو تم مجھے آکر دیکھ لو، ورنہ میں تمہیں خدا کی قسم دلاتی ہوں کہ ایسا نہ کرنا۔ حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اسے دیکھا اور اسی سے شادی کی۔

محمد بن مسلمہ نے ایک عورت سے شاد ی کرنی چاہی اور اس لیے چاہا کہ چوری چھپے کسی طرح عورت کو دیکھ لیں، لیکن موقع نہیں ملتا تھا، یہاں تک کہ ایک دن وہ عورت اپنے باغ میں گئی، انہوں نے موقع پاکر اس کو دیکھ لیا۔ لوگوں کو معلوم ہوا تو نہایت تعجب سے ان سے کہا کہ آپ صحابی ہو کر ایسا کام کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جب کسی عورت سے شادی کا ارادہ ہو تو شادی سے پہلے اس کو ایک نظر دیکھنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔

شیخین نے صحیحین میں حضرت صفیہ رضی الله عنہا کے قصے میں بیان کیا ہے کہ لوگوں نے حضرت صفیہ کے متعلق یہ رائے قائم کی کہ اگر رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کو پردہ کرائیں تو سمجھ لو کہ وہ بیوی ہیں او راگر پردہ نہ کرائیں تو سمجھ لوام الولد ہیں۔

حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ایک خط دینے کے لییپردے کے پیچھے سے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

اس سے معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ رضی الله عنہم کی عورتیں خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پردہ کرتی تھیں۔

حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے ۔ وہ فرماتی ہیں کہ ہم ( ازواج مطہرات) رسول الله صلی الله علیہ وسلمکے ساتھ حج کو جاتے ہوئے احرام کی حالت میں تھیں، جب ہمارے پاس سے کوئی سوار گزرتا تو ہم اپنی چادر اپنے سر کے اوپر کھینچ کر اپنے چہروں پر لے آتے او رجب ہم آگے بڑھ جاتے تو اپنے چہروں کو کھول دیتے تھے۔

حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے اپنی وفات کے وقت وصیت فرمائی تھی کہ انہیں رات کے وقت دفن کیا جائے ۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا اور ان کی تدفین رات کے وقت عمل میں آئی۔ (جاری)

جامعہ فاروقیہ کراچی

No comments:

Post a Comment

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

ښه انسان د ښو اعمالو په وجه پېژندلې شې کنه ښې خبرې خو بد خلک هم کوې


لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل ملګروسره معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


خپل نوم ، ايمل ادرس ، عنوان ، د اوسيدو ځای او خپله پوښتنه وليکئ


طریقه د کمنټ
Name
URL

لیکل لازمی نه دې اختیارې دې فقط خپل نوم وا لیکا URL


اویا
Anonymous
کلیک کړې
سائیٹ پر آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید.



بحث عن:

البرامج التالية لتصفح أفضل

This Programs for better View

لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل معلومات نظراو تجربه شریک کړئ

MrAbohisham's Channel

هډه وال کے ایس ایم ایس اپنے موبائل میں حاصل کرنے کے لئے اپنا نمبر لکھ کرسائن اپ کردیں پھر آپ کے نمبر میں ایک کوڈ آے وہ یہاں لکھ لیں




که غواړۍ چی ستاسو مقالي، شعرونه او پيغامونه په هډاوال ويب کې د پښتو ژبی مينه والوته وړاندی شي نو د بريښنا ليک له لياري ېي مونږ ته راواستوۍ
اوس تاسوعربی: پشتو :اردو:مضمون او لیکنی راستولئی شی

زمونږ د بريښناليک پته په ﻻندی ډول ده:ـ

hadawal.org@gmail.com

Contact Form

Name

Email *

Message *

د هډه وال وېب , میلمانه

Online User