Search This Blog

Loading...

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته ډېرخوشحال شوم چی تاسی هډاوال ويب ګورۍ الله دی اجرونه درکړي هډاوال ويب پیغام لسانی اوژبنيز او قومي تعصب د بربادۍ لاره ده


اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ




اللهم لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت و لك الحمد بعد الرضى



لاندې لینک مو زموږ دفیسبوک پاڼې ته رسولی شي

هډه وال وېب

https://www.facebook.com/hadawal.org


د عربی ژبی زده کړه arabic language learning

https://www.facebook.com/arabic.anguage.learning
There was an error in this gadget

Tuesday, February 1, 2011

مسئلہ حاضر و ناظر

مسئلہ حاضر و ناظر
  
 اوپر گزچکا ہے کہ بریلویت کے افکار و عقائد بعید از عقل اور انسان کی فہم سے بالا تر ہیں۔ انہی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ متبعین بریلویت کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں اور ایک وقت میں اپنے جسم مبارک سمیت کئی مقامات پر موجود ہوسکتے ہیں۔
 یہ عقیدہ نہ صرف یہ کہ کتاب و سنت کی صریح مخالفت پر مبنی ہے بلکہ عقل و خرد اور فہم و تدبر سے بھی عاری ہے۔ ریعت اسلامیہ اس قسم کی بوذی اور ہندوؤانہ عقائد سے بالکل مبّرا و منزہ ہے۔
 بریلوی حضرات عقیدہ رکھتے ہیں
 "کوئی مقام اور کوئی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی نہیں۔"
 مزید سنئے
 "سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور نور نبوت سے یہ امر بعید نہیں کہ آن واحد میں مشرق و مغرب، جنوب و شمال' تحت و فوق' تمام جہات وامکنہ' بعیدہ متعددہ میں سرکار اپنے وجود مقدس بعینہ یا جسم اقدس مثالی کے ساتھ تشریف فرما ہوکر اپنے مقربین کو اپنے جمال کی زیارت اور نگاہ کرم کی رحمت و برکت سرفراز فرمائیں۔"
 یعنی آن واحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے جسم اطہر کے ساتھ لاتعداد مقامات پر موجود ہونا امر بعید نہیں۔
 یہ عقیدہ کتاب و سنت' شریعت اسلامیہ' فرامین الٰہیہ' ارشادات نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عقل و فکر سے تو بعید ہے۔ ہاں امام بریلویت جناب احمد رضا خاں صاحب بریلوی کی شریعت اور ان کے خود ساختہ فلسفے میں یہ "امر بعید" نہ ہو تو الگ بات ہے۔

 
 ایک اور متبع بریلویت نقل کرتے ہیں
 "اولیاء اللہ ایک آن میں چند جگہ جمع ہوسکتے ہیں اور ان کے بیک وقت چند اجسام ہو سکتے ہیں۔"
 یعنی جب اولیاء کرام سے یہ چیز ممکن ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں ممکن نہیں؟
 حضور علیہ السلام کو دنیا میں سیر فرمانے کا صحابہ کرام کی روحوں کے ساتھ اختیار ہے۔ آپ کو بہت سے اولیاء اللہ نے دیکھا ہے۔"
 دعویٰ اور دلیل دونوں کو ایک ساتھ ہی ذکر کردیا گیا ہے۔
 دعویٰ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ مختلف مقامات پر موجود ہوسکتے ہیں' اور دلیل یہ ہے کہ بہت سے اولیاء کرام نے انہیں دیکھا ہے رہی اس بات کی دلیل کہ اولیاء اللہ نے انہیں دیکھا ہے' تو اس کی سند ضعیف بھی ہو تو کوئی حرج نہیں کرتی"
 مزید سنئے
 "اپنی امت کے اعمال میں نگاہ رکھنا' ان کے لئے گناہوں سے استغفار کرنا' ان سے دفع بلا کی دعا فرمانا' اطراف زمین میں آناجانا' اس میں برکت دینا اور اپنی امت میں کوئی صالح آدمی مرجائے تو اس کے جنازے میں جانا' یہ حضور علیہ السلام کا مشغلہ ہے۔"
 اب جناب احمد رضا خان صاحب کا بزرگان کرام کے متعلق ارشاد ملاحظہ ہو
 "ان سے پوچھا گیا کہ کیا اولیاء ایک وقت میں چند جگہ حاضر ہونے کی قوت رکھتے ہیں؟ تو جواب دی
 "اگر وہ چاہیں تو ایک وقت میں دس ہزار شہروں میں دس ہزار جگہ کی دعوت قبول کرسکتے ہیں۔"
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نقل کرتے ہیں
 "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کریم تمام جہاں میں ہر مسلمان کے گھر میں تشریف فرما ہے۔"
 جناب احمد رضا کے ایک پیروکار لکھتے ہیں
 "حضور علیہ السلام کی نگاہ پاک ہر وقت عالم کے ذرہ ذرہ پر ہے اور نماز' تلاوت قرآن' محفل میلاد شریف اور نعت خوانی کی مجالس میں' اسی طرح صالحین کی نماز جنازہ میں خاص طور پر اپنے جسم پاک سے تشریف فرماہوتے ہیں۔"
 نامعلوم یہ تعلیمات و ہدایات بریلوی حضرات نے کہاں سے اخذ کی ہیں؟ کتاب و سنت سے تو ان کا کوئی رشتہ اور ربط و ضبط نہیں
 بریلویت کے یہ پیروکار آگے چل کر لکھتے ہیں
 "حضور علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کا پیدا ہونا' ان کی تعظیم ہونا اور خطا پر جنت سے علیحدہ ہونا اور پھر توبہ قبول ہونا آخر تک ان کے سارے معاملات جو ان پر گزرے' سب کو دیکھا ہے۔ اور ابلیس کی پیدائش اور جو کچھ اس پر گذرا' اس کو بھی دیکھا۔ اور جس وقت روح محمدی کی توجہ دائمی حضرت آدم سے ہٹ گئی' تب ان سے نسیان اور اس کے نتائج ہوئے۔"
 یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں جلوہ گر ہونے سے قبل بھی حاضر و ناظر تھے
 اور سنئے
 "اہل اللہ اکثر و بیشتر بحالت بیداری اپنی جسمانی آنکھوں سے حضور کے جمال مبارک کا مشاہدہ کرتے ہیں۔"
 ایک اور جگہ لکھتے ہیں
 "اہل بصیرت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران نماز بھی دیکھتے ہیں۔"
 مزید ملاحظہ ہو۔ نقل کرتے ہیں
 "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسم مبارک اور روح اقدس کے ساتھ زندہ ہیں۔ اور بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اطراف زمین اور ملکوت اعلیٰ میں جہاں چاہتے ہیں' سیر اور تصرف فرماتے ہیں۔ اور حضور علیہ السلام اپنی اس ہیئت مبارکہ کے ساتھ ہیں' جس پر وفات سے پہلے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی چیز بدلی نہیں ہے۔ اور بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری آنکھوں سے غائب کردیئے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ سب اپنے جسموں کے ساتھ زندہ ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جمال دکھا کر عزت و بزرگی عطا فرمانا چاہتا ہیں تو اس سے حجاب کو دور کردیتا ہے اور وہ مقرب بندہ حضور کو اس ہیئت پر دیکھ لیتا ہے جس پر حضور واقع ہیں۔ اس روئیت سے کوئی چیز مانع نہیں اور روئیت مثالی کی طرف کوئی امر داعی نہیں۔"
 جناب احمد رضا بریلوی ارشاد کرتے ہیں
 "کرشن کٹھیا کافر تھا اور ایک وقت میں کئی جگہ موجود ہوگیا ۔ فتح محمد(کسی بزرگ کا نام) اگر چند جگہ ایک وقت میں ہوگیا' تو کیا تعجب ہے۔ کیا گمان کرتے ہو کہ شیخ ایک جگہ تھے باقی جگہ مثالیں؟
 حاشا وکلا' بلکہ شیخ بذات خود ہر جگہ موجود تھے' اسرار باطن فہم ظاہر سے وراء ہیں' خوض و فکر بے جا ہے۔"
 سبحان اللہ
 دعویٰ کی دلیل میں نہ آیت نہ حدیث۔ دلیل یہ ہے کہ کرشن کٹھیا اگر کافر ہونے کے باوجود کئی سو جگہ موجود ہوسکتا ہے' تو کیا اولیائے کرام چند جگہ موجود نہیں ہوسکتے؟
 ہم  پیروی   قیس   نہ   فرہاد  کریں گے
 کچھ طرز جنوں اور ہی ایجاد کریں گے
 یہ انوکھا طرز استدلال بریلویت ہی کی خصوصیت ہے۔ امام بریلویت کے اس ارشاد کو بھی ملاحظہ فرمائیں
 "اسرار باطن فہم ظاہر سے وراء ہیں۔ خوض و فکر بے جا ہے۔"
 یعنی یہ وہ نازک حقیقت ہے جو سمجھائی نہیں جاتی
 امام بریلویت کے ایک پیروکار رقمطراز ہیں
 "حضور علیہ الصلوۃ والسلام آدم علیہ السلام سے لے کر آپ کے جسمانی دور تک کے تمام واقعات پر حاضر ہیں۔"
 بریلویت کے ان عقائد کا ذرا اللہ تعالیٰ کے ارشادات سے تقابل کیجئے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے
 وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَى مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ (القصص)
 "اور آپ (پہاڑ کے) مغربی جانب موجود نہ تھے' جب ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو احکام دیئے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے نہ تھے' جو (اس وقت)موجود تھے۔"
  وَمَا كُنتَ ثَاوِياً فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ (القصص  45 )
 "اورنہ ُ اہل مدین میں قیام پذیر تھے کہ ہماری آیتیں لوگوں کو پڑھ کر سنارہے ہوں' لیکن ہم آپ کو رسول بنانے والے تھے۔"
  وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَكِن رَّحْمَةً مِّن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْماً مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (القصص  46 )
 "اور نہ آپ طور کےپہلو میں اس وقت موجود تھے' جب ہم نے (موسیٰ علیہ السلام کو) آواز دی تھی۔ لیکن اپنے پروردگار کی رحمت سے (نبی بنائے گئے) تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا' تاکہ وہ لوگ نصیحت قبول کریں۔"
 اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہ السلام کا قصہ بیان کرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمای
  وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلاَمَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ (آل عمران  44 )
 "اور آپ تو ان لوگوں کے پاس تھے نہیں اس وقت جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے' کہ ان میں سے کون مریم کی سرپرستی کرے؟ اور نہ آپ ان کے پاس اس وقت تھے جب وہ باہم اختلاف کررہے تھے۔"
  تِلْكَ مِنْ أَنبَاء الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلاَ قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ (هود  49 )
 "یہ(قصہ) اخبار غیب میں سے ہے۔ ہم نے اسے وحی کے ذریعہ سے آپ تک پہنچادیا۔ اس کو اس (بتانے) سے قبل نہ آپ ہی جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم۔ سو صبر کیجئے' یقیناً نیک انجامی پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے۔"
  ذَلِكَ مِنْ أَنبَاء الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُواْ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ (يوسف  102 )
 "یہ (قصہ) غیب کی خبروں میں سے ہے' جس کی ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ اور آپ ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جب انہوں نے اپنا ارادہ پختہ کرلیا تھا اور وہ چالیں چل رہے تھے۔"
 اللہ تعالیٰ حضور علیہ السلام کے مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تک جانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
 سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ (الإسراء  1 )
 "پاک ذات ہے وہ جو اپنے بندے کو رات ہی رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جن کے ارد گرد کو ہم نے بابرکت بنارکھا ہے' تاکہ ان (بندہ) کو ہم بعض اپنے عجائب (قدرت)  دکھائیں' بے شک سمیع و بصیر وہی اللہ ہے۔"
 یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر حاضر و ناظر ہوتے تو مسجد اقصیٰ تک براق کے ذریعہ سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو پہلے ہی وہاں موجود تھے
 ارشاد باری تعالیٰ ہے
  إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا (التوبة  40 )
 "اگر تم لوگ ان کی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ) مدد نہ کروگے تو ان کی مدد تو(خود) اللہ کرچکا ہے' جبکہ ان کو کافروں نے وطن سے نکال دیا تھا جبکہ دو میں سے ایک وہ تھے اور دونوں غار میں (موجود) تھے' جبکہ وہ اپنے رفیق سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو بے شک اللہ ہم لوگوں کے ساتھ ہے۔"
  وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (آل عمران  123 )
 "اور یقیناًاللہ نے تمہاری نصرت کی بدر میں' حالانکہ تم پست تھے۔ تو اللہ سے ڈرتے رہو' عجب کیا کہ شکر گزار بن جاؤ۔"
  إِذْ أَنتُم بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُم بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَى وَالرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ  (الأنفال  42 )
 (یہ وہ وقت تھا) جب تم (میدان جنگ) کے نزدیک والے کنارہ پر تھے اور وہ دور والے کنارہ پر' اور قافلہ تم سے نیچے کی (جانب) تھا۔"
 لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ  (الفتح  18 )
 "بے شک اللہ خوش ہوا ان مسلمانوں پر' جبکہ وہ آپ سے بیعت کررہے تھے درخت کے نیچے۔"
 لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاء اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُؤُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُون(الفتح )
 "تم لوگ مسجد الحرام میں ان شاء اللہ ضرور داخل ہوگے امن وامان کے ساتھ' سر منڈاتے ہوئے بال کتراتے ہوئے' اور تمہیں اندیشہ (کسی کا بھی) نہ ہوگا۔"
 ان آیات سے ثابت ہوا کہ ایک ہی وقت میں بہت سے مقامات پہ موجود ہونے کا عقیدہ درست نہیں۔ قرآنی آیات کا مفہوم اس غیر اسلامی فلسفے سے متصادم ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ایک ہی وجود رکھتے تھے ۔ اور جب وہ مدینہ منورہ میں موجود ہوتے تھے توبدر میں ان کا وجود نہ ہوتا تھا' ورنہ بدر کی طرف سفر کرنے کا کوئی معنی نہیں رہتا۔ اسی طرح جب تک مکہ مکرمہ فتح نہیں ہوا تھا ان کا وجود مکہ مکرمہ میں نہیں تھا۔
 ان آیات کریمہ کے ساتھ ساتھ حقائق وواقعات بھی اس عقیدے کی تردید کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب حجرہ مبارک میں تشریف فرما ہوتے تھے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد میں انتظار فرمایا کرتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر تھے' صحابہ رضی اللہ عنہم کا مسجد میں انتظار کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
 اسی طرح جب آپ مدینہ میں تھے تو حنین میں آپ کا وجود نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں تھے تو مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہ تھے۔ اور جب عرفات میں تھے تو نہ مکہ مکرمہ میں آپ کا وجود تھا نہ مدینہ منورہ میں
 مگر بریلوی حضرات ان تمام آیات کریمہ اور شواہد و حقائق سے پہلو تہی کرتے ہوئے عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر آن ہر مقام پر حاضر و ناظر ہیں۔
 مزید کہتے ہیں
 "حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو بھی جانتے ہیں اور تمام موجودات و مخلوقات ان کے جمیع احوال کو بتمام کمال جانتے ہیں۔ ماضی حال مستقبل میں کوئی شئے کسی حال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مخفی نہیں۔"
 ایک اور جگہ لکھتے ہیں
 "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کو اپنی نظر مبارک سے دیکھ رہے ہیں۔"
 جناب بریلوی لکھتے ہیں
 "نبی علیہ السلام نہ کسی سے دور ہیں اور نہ کسی سے بے خبر"
 مزید رقم طراز ہیں
 "حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں' نیتوں' ارادوں اور دل کے خطروں کو پہنچانتے ہیں۔ اور یہ سب حضور پر روشن ہے جس میں اصلاً پوشیدگی نہیں۔"
 ایک اور جگہ لکھتے ہیں
 "نبی صلی اللہ علیہ وسلم حاظر وناظر ہیں اور دنیا میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہوگا' آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر چیز کا مشاہدہ فرمارہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر ہیں اور ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں۔"
 صرف انبیاء علیہم السلام ہی نہیں' بلکہ امام بریلویت جناب احمد رضا بریلوی بھی اس صفت الٰہیہ میں ان کے شریک ہیں۔ چنانچہ ان کے ایک پیروکار ارشاد کرتے ہیں
 "احمد رضا آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ وہ ہماری مدد کرسکتے ہیں۔"
 یہ ہیں بریلوی عقائد و افکار جن کا دین و دانش سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ دین الٰہی تو عقل و فطرت کے عین مطابق ہے' ارشاد باری تعالیٰ ہے
 قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّهِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (يوسف  108 )
 "آپ کہہ دیجئے کہ میرا طریق کار یہی ہے' میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ دلیل پر قائم ہوں' میں بھی اور میرے پیرو بھی اور پاک ہے اللہ اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔"
 وَأَنَّ هَـذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (الأنعام  153 )
 "اور یہ بھی کہہ دیجئے کہ یہی میری سیدھی شاہراہ ہے۔ سو اسی پر چلو اور دوسری پگڈنڈیوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو راہ سے جدا کردیں گی۔ اس (سب)  کا (اللہ) نے حکم دیا ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔"
 أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (محمد  24 )
 "تو کیا لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے' یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں؟"
 کیا کوئی غور کرنے والا ہے کہ وہ غور و فکر کرے اور تدبر کرنے والا ہے کہ وہ تدبر کرے؟
 ان کے عقائد اور قرآن و حدیث کے درمیان اس قدر عظیم تضاد و تناقض کے بعد اس بات سے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ شریعت اسلامیہ اور افکار بریلویہ کا نقطہ نظر اور نہج فکر الگ الگ ہے۔ دونوں کے مابین کسی قسم کی بھی مطابقت نہیں ہے۔ 

اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

منبع:غزوہ الھند

No comments:

Post a Comment

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

ښه انسان د ښو اعمالو په وجه پېژندلې شې کنه ښې خبرې خو بد خلک هم کوې


لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل ملګروسره معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


خپل نوم ، ايمل ادرس ، عنوان ، د اوسيدو ځای او خپله پوښتنه وليکئ


طریقه د کمنټ
Name
URL

لیکل لازمی نه دې اختیارې دې فقط خپل نوم وا لیکا URL


اویا
Anonymous
کلیک کړې
سائیٹ پر آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید.



بحث عن:

البرامج التالية لتصفح أفضل

This Programs for better View

لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل معلومات نظراو تجربه شریک کړئ

MrAbohisham's Channel

هډه وال کے ایس ایم ایس اپنے موبائل میں حاصل کرنے کے لئے اپنا نمبر لکھ کرسائن اپ کردیں پھر آپ کے نمبر میں ایک کوڈ آے وہ یہاں لکھ لیں




که غواړۍ چی ستاسو مقالي، شعرونه او پيغامونه په هډاوال ويب کې د پښتو ژبی مينه والوته وړاندی شي نو د بريښنا ليک له لياري ېي مونږ ته راواستوۍ
اوس تاسوعربی: پشتو :اردو:مضمون او لیکنی راستولئی شی

زمونږ د بريښناليک پته په ﻻندی ډول ده:ـ

hadawal.org@gmail.com

Contact Form

Name

Email *

Message *

د هډه وال وېب , میلمانه

Online User