Search This Blog

Loading...

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته ډېرخوشحال شوم چی تاسی هډاوال ويب ګورۍ الله دی اجرونه درکړي هډاوال ويب پیغام لسانی اوژبنيز او قومي تعصب د بربادۍ لاره ده


اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ




اللهم لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت و لك الحمد بعد الرضى



لاندې لینک مو زموږ دفیسبوک پاڼې ته رسولی شي

هډه وال وېب

https://www.facebook.com/hadawal.org


د عربی ژبی زده کړه arabic language learning

https://www.facebook.com/arabic.anguage.learning
There was an error in this gadget

Thursday, December 30, 2010

ماں بچوں کی تربیت کیسے کرے

ماں بچوں کی تربیت کیسے کرے

بچہ
آج کی نسل جنریشن گیپ کی قائل نہیں ماں باپ اپنے بچوں سے بے تکلفانہ اور دوستانہ مراسم رکھتے ہیں یہ بات ایک حد تک درست ہے مگر یہ بے تکلفی اتنی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ ادب و احترام ملحوظ خاطر رکھنے کو تکلف خیال کیا جائے۔ والدین اور بچوں کا رشتہ کتنا ہی قریبی اور دوستانہ روابط پر منحصر کیوں نہ ہو اس میں بے ادبی اور گستاخی کا پہلو ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
دیکھا گیا ہے کہ بعض مائیں چھوٹے بچوں کی بدتمیزیوں اور بے ادب لہجے کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتی ہیں کہ ابھی بچہ ہے بڑا ہو گا تو خود ہی سمجھ آ جائے گی۔
بچہ ڈھیل پا کر مزید سرکشی اور گستاخی پر اتر آتا ہے۔ مائیں انہیں ڈانٹنے ڈپٹنے کی بجائے لاڈ کرکے مزید سر پر چڑھا لیتی ہیں اور یہی عادتیں پختہ ہو کر ان کی شخصیت کی خامی بن جاتی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے جن بچوں کی ہر غلط  بات کو بھی صحیح سمجھا گیا ہو اسے صحیح یا غلط میں تمیز ہو گی بھی تو کیسے.... جسے بچپن سے ہی ضد کرکے رو پیٹ کر اپنی ہر جائز و ناجائز منوانے کی عادت پڑ جائے وہ بڑا ہو کر بھی اسی طریقے کو خود پر لاگو کئے رکھتا ہے.... جو بد تمیزی اور بے ادبی والا ماحول اسے بچپن میں میسر ہوتا ہے وہ بڑا ہو کر بھی اسی ”بے تکلفی“ پر مائل رہتا ہے۔ ماں باپ چاہے کسی بھی کلاس سے تعلق رکھتے ہوں ان بچے کے ان کی یکساں توجہ اور محبت کے طالب ہوتے ہیں۔ محل میں رہنے والا بچہ بھی ماحول اور کردار سے تربیت پاتا ہے۔
جھونپڑی میں رہنے والا بھی.... ماں باپ کی محبت اورشفقت کی طرح ان کی ”کلاس“ بھی تخصیص کی قائل نہیں مگر جدت پسند اور روشن خیال ماں باپ اس محبت کو بھی کلاس، اسٹیٹس کے پیمانوں سے ماپنے لگے ہیں ہائی کلاس کے والدین اپنے بچوں کی پرورش کھلے ڈھلے ماحول اور دوستانہ مراسم کے ساتھ کرتے ہیں۔
 ان کی محبت ان کے لہجے، باتوں اور لاڈ پیار سے زیادہ پر تعیش زندگی اور بے تحاشہ عیش و عشرت سے منسوب ہوتی ہے وہ اپنے بچوں کی ہر خواہش، ضرورت اور تمنا کا حاصل روپے پیسے کو سمجھتے ہیں ان کے پاس وقت بھی محدود ہوتا ہے۔
بزنس، گیٹ ٹو گیدرز، پارٹیاں اور کلب ان کے بچوں کی تربیت اور پرورش سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
بچے ان کی بے اعتنائی اور لا تعلقی سہہ کر بڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے جب ان کے کیرئر یا شادی وغیرہ کی بات آتی ہے تو وہ ہمیشہ کی طرح اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں اور پھر والدین کے لیے اپنے بچوں کی شادی ایسا موضوع ہوتا ہے کہ یہاں آ کر انہیں سارے حقوق و فرائض یاد آ جاتے ہیں۔ یہاں آکر انہیں خبر ہوتی ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت میں کہاں کمی رہ گئی تھی۔ ہر بات اور ہر کام اپنے بچوں کی منشاء پر ڈال دینے والے بہت سے والدین اس موقع پر آ کر اپنی مرضی اور اختیار استعمال کرنے لگتے ہیں۔ جو بچے شروع سے بغیر روک ٹوک کے آزادانہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ماں باپ اس موڑ پہ آ کر ان پر پابندیاں اور حدو دو قیود عائد کرنے لگیں تو اس کا نتیجہ کورٹ میرجز کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی نہیں آ ج کل تو اچھے اچھے گھرانوں کے بچے منشیات (ڈرگس) اور نشہ آور اشیاء کے عادی ہوتے ہیں۔ شراب و کباب تو خیر امراء اور روساء کے لیے ”اسٹیٹس سمبل“ بن چکا ہے تاہم شوقیہ اسمگلنگ، ڈاکہ زنی اور ریپ وغیرہ کے کیسز بھی امیر گھرانوں کے بچوں کے معمولات میں شامل ہو چکے ہیں۔
سونے کا نوالہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے بھی موبائل چھیننے اور اسٹریٹ کرائمز میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
ان کی راہ میں کوئی مجبوری حائل نہیں مگر ناقص تربیت ان کی شخصیت کو کھوکھلا کر دیتی ہے وہ باہر سے کتنے ہی مکمل کیوں نہ ہوں ان کا اندر اتنا ہی خالی ہوتا ہے ان کی شخصیت بظاہر مضبوط اور بھرپور دکھائی دیتی ہے مگر ان کی باطنی شخصیت اتنی ہی کھوکھلی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے۔ 


بچہ
بات متوسط طبقے اور نچلے گھرانوں کی کی جائے تو یہاں بھی حالات خاصے قابل رحم ہو چکے ہیں۔ خصوصاً نچلے طبقات میں تو والدین کی تعلیم و تربیت کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے۔ ماں باپ بچوں کو پیدا کرکے ان کی تعلیم و تربیت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ یہاں بچوں کی بہتات تو ہوتی ہے مگر ان کے پیٹ بھرنے کے علاوہ ماﺅں کو کسی شے سے سر و کار نہیں ہوتا۔ ان کے بچے یونہی گلیوں، سڑکوں اور جھونپڑیوں میں رل کر پل بڑھ جاتے ہیں اور یہی وہ معاشرتی ناسور بنتے ہیں جو شر پسند اور تشدد پسند کہلاتے ہیں.... جن کا معاشرتی جرائم میں بڑا حصہ ہے۔ سو میں ستر فیصد مجرمانہ ذہنیت کے حامل چھوٹی چھوٹی خواہشوں اور حسرتوں کے لیے کلپتے یہ معصوم بچے ہوتے ہیں جو کم عمری سے ہی چوری چکاری اور دیگر جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں.... جن کی مائیں ان کی تربیت سے یکسر لا تعلق رہتی ہیں۔ خانہ بدوش، گداگروں اور فقراء کے بچے نہ صرف ماں باپ کے پیشے اختیار کرتے ہیں بلکہ ان کی ناقص تربیت انہیں نسل در نسل ان کو آبائی پیشوں سے وابستہ رکھتی ہے۔ تعلیم کا تو خیر ایسے گھرانوں میں کوئی کردار ہوتا ہے نہ تصور.... اور تربیت بھی نایاب شے ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے بچے فٹ پاتھ اور خیراتی اداروں کی زینت بنتے ہیں۔ نشہ آور منشیات کے عادی ہو کر دنیا و ما فیھا سے بے خبر ہو جانے والے اکثر پھول سڑکوں کے کناروں پر مسلے پڑے رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا بنیادی مقصد پیٹ بھرنا ہوتا ہے.... ان کا شخصی کردار ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وقت اتنا آگے سرک چکا ہے۔ ماں باپ انتہائی روشن خیال اور وسیع النظر ہو چکے ہیں۔ دنیا کمپیوٹر کی سکرین میں سمٹ چکی ہے۔ مگر نچلے گھرانوں کی ”ماں“ آج بھی صدیوں پہلے والی ماں ہے۔ اپنے بچوں کی ذاتی شخصیت میں اس کا حوالہ موجود ہوتا ہے لیکن کردار نہیں.... اپنی اولاد کے لیے اس کی ممتا وہی ہے، محبت وہی ہے تاہم اس کے خواب عام ماﺅں سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے لیے زندگی کھانے، پینے، سونے، جاگنے اور ہاتھ پھےلا کر مانگنے کا نام ہے اور یہی عمل اور سوچ نسل در نسل اس کے بچوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ افسوس ہوتا ہے ایسی ماﺅں پر جو جانوروں کی طرح اپنے بچے پیدا کرکے ”پھینک“ دیتی ہیں جن کے نزدیک ماں کا کام صرف بچے پیدا کرنا ہے وہ اپنی تعلیم و تربیت کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔ درمیانہ طبقہ جو ہمارے وطن کی ستر فیصد آبادی پر مشتمل ہے اور جس کی نسل نو کا اس ملک کی ترقی میں اہم کردار ہے۔ یہاں بھی ”ماں“ دو حصوں میں منقسم ہو چکی ہے۔ ایک طرف ماں اتنی حساس، سمجھ دار اور با شعور ہے کہ اس کی تربیت اور بہترین درس زندگی اس کے بچوں کو معزز شہری اور باہمت شخصیت کے طور پر سامنے لاتی ہے تو دوسری طرف ”ماں“ اس قدر لا پرواہ اور لا تعلق ہوگئی ہے کہ بچے کیا کرتے ہیں؟ کہاں جاتے ہیں؟ کہاں گھومتے ہیں؟.... اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ بچوں کی شخصیت کو بگاڑنے اور سنوارنے میں ماں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک پڑھی لکھی اور ایک جاہل ماں میں بہت فرق ہوتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی ممتا یا محبت میں تفرق آ جائے.... ماں جب ایک بچے کی تربیت و پرورش کرتی ہے تو وہ ایک بچے کی نہیں بلکہ ایک نسل کی تربیت کر رہی ہوتی ہے۔ آج کل کی مادیت پسند دور نے ماں کو بھی تھوڑا سا خود غرض بنا دیا ہے لیکن یہ خال خال ہے۔ 


بچّہ
ماں اور بچے کا رشتہ انمول ہے.... ضرورت اس امر کی ہے کہ ماں اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو بہتر طور پر سمجھے تاکہ وہ ایک نسل کی تربیت قابلِ فخر اور شخصی بنیادوں پر کر سکے۔ ماں پڑھی لکھی ہو یا جاہل.... کسی بھی طبقے کی ہو اس کی ممتا منقسم نہیں ہو سکتی۔ اسٹیٹس اور معاشی حالات کے پیشِ نظر ماں کے کردار کو صرف ”ماں“ ہی ہونا چاہیے وہ ممی ہو مما ہو یا اماں.... اس کی گود اگر پہلی درس گاہ ہے تو اسے اس بات کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو پہلا سبق کیا دیتی ہے؟ اس کی ابتدائی تربیت کن خطوط پر کرتی ہے.... بچپن ہی سے ماں کو ہر رشتے اورتعلق کو اسی تکریم اور احترام سے متعارف کروانا چاہیے جس کا وہ مستحق ہے۔ کسی کی تذلیل و تحقیر کرنے سے قبل اسے اپنے بچوں کے معصوم ذہنوں کا بھی خیال رہنا چاہیے.... والدین جو بھی فعل کرتے ہیں بچہ اسے ضرور اختیار کرتا ہے.... یہی وجہ ہے کہ باپ کو بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی وغیرہ سے منع کیا جاتا ہے.... اسی طرح بعض مائیں بھی خاصی بے تکلفی کا مظاہرہ کرتی رہتی ہیں.... کسی کو لعن طعن کرنا ہوتو بھی مہذب دائرے میں رہ کر.... کسی غلط کام پر ٹوکنا ہو.... کسی غلط فعل پر ممانعت کرنی ہو.... کسی ناجائز خواہش پر سمجھانا ہو.... کسی ضد پر بچے کو بہلانا ہو.... ہر ہر کام اور فعل میںتربیت کا پہلو مدّ نظر رکھنا چاہیے۔
    بچہ ہر عمل، ہر بات، ہر حرکت اور ہر عادت سے سیکھتا ہے.... اسے بچپن میں جیسا ماحول دیا جائے اس کی شخصیت ویسی ہی ہوتی ہے.... بچپن سے ہی بچے کو منصفی کے پیمانے پر پورا اتر کر دکھانا چاہیے.... یہ نہیں کہ ایک بچے کو زیادہ چیز دی اور دوسرے کو کم.... ایک سے لاڈ پیار زیادہ جتانا اور دوسرے سے کم.... معصوم بچے ہر ہر حرکت کو ذہن میں رکھ کر اس کے محرک پر غور و خوض کرتے ہیں.... ان میں تجسس کا مادہ حد سے سوا ہوتا ہے وہ کیا؟ کیوں؟ کیسے ؟ سے سیکھتے ہیں....
    ہرماں کے لیے اولاد کتنی ہی ہو ہر بچے کے لیے ماں ”ایک“ ہی ہوتی ہے.... ماں ہر بچے کے لیے ”انسٹی ٹیوٹ“ کا درجہ رکھتی ہے.... آج کل کی”ماں“ پڑھی لکھی تو ہے لیکن باشعور ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ”روشن خیال“ بھی ہو گئی ہے.... اسی لیے ہر ماں سے گزارش ہے کہ وہ ابتدائی چند سالوں تک بچوں کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے اپنے ذاتی مقصد اور شخصیت کو پس پشت ڈال کر صرف اس کی بہترین تربیت پر توجہ دے۔ اسے اپنے بچے کو شروع سے ہی باادب اور مہذب ماحول دینا چاہیے.... بچپن سے ہی مال بانٹ کر کھانے کا سلیقہ سیکھانا چاہیے.... بڑوں کے ادب واحترام اور چھوٹوں سے محبت بھرے سلوک پر زور دینا چاہیے، ہر جائز و ناجائز پر ”امناً صادقا“ کہنے کی بجائے صرف جائز ضروریات اور خواہشات کے حصول پر عمل کرنا چاہیے.... ہر ضد اور خواہش پوری کرنا بچے سے محبت نہیں اس پر ظلم ہے.... کیونکہ جسے بچپن سے ”نہ سننے“ کی عادت نہ ہو۔ وہ بڑا ہو کر بھی انکار نہیں سننا چاہتا.... چاہے مقصد یا مطمع نظر کچھ بھی ہو.... حد سے زیادہ سختی کی طرح حد سے زیادہ لاڈ پیار بھی بچے کی شخصیت کو بگاڑ دیتا ہے.... ہر شے اور ہر کام اعتدال میں ہونا چاہیے۔
    سب سے بڑھ کر ماں کو ماں ہی رہنا چاہئے.... کوئی ماڈل، شو پیس یا میم نہیں.... جسے اپنے بچوں کی تربیت سے زیادہ اپنے کپڑوں، جیولری اور میک اپ کی فکر دامن گیر رہے.... درحقیقت ماں ایسا وجود ہے.... جس کا چہرہ پر نور اور لب دعاﺅں سے مسکراتے ہیں آج کل کی ماں بھی کوئی ”ماں“ ہے.... وہ تو چلتا پھرتا اشتہار بن گئی ہے۔ اللہ اس کے حال پر رحم کرے جو قدموں تلے جنت رکھ کر اس پر چھ چھ انچ کی ہیل لیے پھرتی ہے.... اور جس کی ہتھیلیوں میں مقدس دعاﺅں کی بجائے اب مہنگے مہنگے موبائل فون، پرس اور بیش قیمت زیورات ہوتے ہیں۔ جس کے وجود سے ممتا کی بجائے ڈیوڈرنٹ اور پرفیومز کی مہک آتی ہے۔

بشکریہ لاہور اپ ڈیٹس
منبع: tebyan.net

No comments:

Post a Comment

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

ښه انسان د ښو اعمالو په وجه پېژندلې شې کنه ښې خبرې خو بد خلک هم کوې


لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل ملګروسره معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


خپل نوم ، ايمل ادرس ، عنوان ، د اوسيدو ځای او خپله پوښتنه وليکئ


طریقه د کمنټ
Name
URL

لیکل لازمی نه دې اختیارې دې فقط خپل نوم وا لیکا URL


اویا
Anonymous
کلیک کړې
سائیٹ پر آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید.



بحث عن:

البرامج التالية لتصفح أفضل

This Programs for better View

لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل معلومات نظراو تجربه شریک کړئ

MrAbohisham's Channel

هډه وال کے ایس ایم ایس اپنے موبائل میں حاصل کرنے کے لئے اپنا نمبر لکھ کرسائن اپ کردیں پھر آپ کے نمبر میں ایک کوڈ آے وہ یہاں لکھ لیں




که غواړۍ چی ستاسو مقالي، شعرونه او پيغامونه په هډاوال ويب کې د پښتو ژبی مينه والوته وړاندی شي نو د بريښنا ليک له لياري ېي مونږ ته راواستوۍ
اوس تاسوعربی: پشتو :اردو:مضمون او لیکنی راستولئی شی

زمونږ د بريښناليک پته په ﻻندی ډول ده:ـ

hadawal.org@gmail.com

Contact Form

Name

Email *

Message *

د هډه وال وېب , میلمانه

Online User