Search This Blog

Loading...

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته ډېرخوشحال شوم چی تاسی هډاوال ويب ګورۍ الله دی اجرونه درکړي هډاوال ويب پیغام لسانی اوژبنيز او قومي تعصب د بربادۍ لاره ده


اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ




اللهم لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت و لك الحمد بعد الرضى



لاندې لینک مو زموږ دفیسبوک پاڼې ته رسولی شي

هډه وال وېب

https://www.facebook.com/hadawal.org


د عربی ژبی زده کړه arabic language learning

https://www.facebook.com/arabic.anguage.learning
There was an error in this gadget

Thursday, March 31, 2011

Tuberculosis ٹی بی

Tuberculosis   ٹی بی

tuberculosis   ٹی بی
یہ ایک نہایت ہی خوفناک متعدی مرض ہے جو مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسس نامی جرثومے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ جراثیم جسم کے کسی بھی حصے پر کسی بھی عضو پر حملہ آور ہو سکتے ہیں لیکن پھیپڑے زیادہ تر اسکا نشانہ بنتے ہیں۔تپ دق کو ٹی بی،سل اور دق بھی کہتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کا کوئی بھی ملک اس بیماری سے محفوظ نہیں ہے اور یہ دنیا میں موت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ پاکستان میں تقریبا دو لاکھ سے زائد افراد ہر سال ٹی بی میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ غربت اور مرض کے بارے میں لاعلمی اور علاج سے لاپروائی ہے۔ پاکستان میں اس مرض سے تقریبا ٣٠٠٠٠ افراد ہر سال موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ جو شخص علاج نہیں کرواتا وہ زیادہ سے زیادہ دو سے تین سال زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر انتہائی کرب میں اور اسی دوران وہ شخص ١٥ سے ٢٠ افراد کو ٹی بی کا مریض بنا دیتا ہے۔ماضی میں یہ مرض انتہائی مہلک سمجھا جاتا تھا کیونکہ علاج صحیح معنوں میں دستیاب نہیں تھا یا پھر لوگوں کی دسترس سے باہر تھا لیکن فی زمانہ ٹی بی قابل علاج مرض ہے۔ سرکاری سطح پر ایلوپیتھی طریقہ علاج میں بھی اسکا مکمل علاج موجود ہے لیکن اس بات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ ٹی بی کا علاج بروقت کروایا جائے اور مکمل طور پر کروایا جائے۔
ٹی بی کیسے پھیلتی ہے؟
ٹی بی قدیم ترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ یہ مرض مائیکوبیکٹیریم ٹیوبرکلوسس سے پھیلتا ہے۔ ٹی بی زیادہ تر پھیپڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن یہ جسم کے تمام اعضا کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ مثلا ریڑھ کی ہڈی ،جوڑ اور دماغ  وغیرہ۔ پھیپھڑوں کی ٹی بی سب سے زیادہ خطرناک ہے۔
ٹی بی کا پھیلاو :
ٹی بی کا مرض زیادہ تر ہوا کے ذریعے سے پھیلتا ہے۔ جب ایک مریض کھانستا ہے یا  بات چیت کرتا ہے تو ٹی بی کے  جراثیم دوسروں کے منہ میں جا کر ٹی بی کا مرض پیدا کرتے ہیں۔ایک شخص جو مریض سے زیادہ قریب ہے اسے مرض کے ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔ایک ہی جگہ زیادہ لوگوں کا رہنا اور صفائی کے ناقص انتظامات ٹی بی پھیلانے میں زیادہ مددگار ہوتے ہیں۔
ٹی بی کی علامتیں : 
١- ہلکا بخار اور رات کو ٹھنڈے پسینے کا آنا۔
٢- کھانسی جو مسلسل آئے ،کبھی کبھی تھوک میں خون کا آنا۔
٣- وزن میں کمی۔
٤- بھوک میں کمی-
٥ سینے میں درد-
٦- دیگر تکالیف اگر کوئی دوسرا عضو مبتلا ہو تو۔
سب سے زیادہ خطرہ کس کو ہے؟
وہ لوگ جو مریض کے قریبی رشتہ دار ہیں اور ان میں قوت مدافعت کم ہے۔ وہ لوگ جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ وہ مریض جو علاج نہیں کرواتا ہے دوسروں کے لیے مصیبت بن سکتا ہے۔ وہ لوگ جو ایڈز جیسی موذی بیماری میں مبتلا ہیں ،انہیں ٹی بی ہونے کے زیادہ موقع ہیں۔ وہ لوگ جن کی شوگر بڑھی ہوئی ہو۔
مرض کی تشخیص کیسے کرتے ہیں؟
١- بلغم کا ٹیسٹ سب سے زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے۔
٢- ڈاکٹر ایکسرے سے بھی مدد لے سکتا ہے۔
٣- خون کے مختلف ٹیسٹ سے بھی تشخیص میں کافی مدد ملتی ہے۔
اگر ٹی بی کا علاج نہ کیا جائے تو؟
بغیر علاج کے مریض کی زیندگی چند سالوں کی رہ جاتی ہے۔ایک ایسا مریض جسکا علاج نہین ہوا ہوتا وہ دوسروں کے لیے مسلسل خطرہ ہوتا ہے کیونکہ ایک مریض جس کے بلغم میں جراثیم ہوتے ہیں ہر سال تقریبا ١٥ سے ٢٠ نئے مریض بنا دیتا ہے اسلیے ضروری ہے کہ ایسے مریضوں کا علاج کیا جائے۔
تمام ادویات کھانا کیوں ضروری ہے؟
اگر تمام ادویات بتائے ہوئے طریقے کے مطابق لی جایئں تو ٩٥٪ چانسس ہوتے ہیں کہ مریض ٹھیک ہو جائےگا۔ جب ادویات شروع کی جاتی ہیں تو چند ہی ہفتوں میں مریض اپنے آپ کو بہتر محسوس کرنے لگتا ہے۔ لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ وہ ٹھیک ہو گیا ہے کیونکہ چھپے ہوئے جراثیم اب بھی اسکے جسم میں ہوتے ہیں اور ادویات چھوڑنے کی صورت میں یہ دوبارہ بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔اس لیے ادویات کا باقاعدہ استعمال ضروری ہے جب تک ڈاکٹر کی ہدایت ہو۔
کیا ٹی بی کی ادویات کے مضر اثرات بھی ہوتے ہیں؟
متلی اور الٹی کا ہونا ایک عام سی بات ہے لیکن ادویات کے استعمال سے ہفتے دو ہفتے میں جسم عادی ہو جاتا ہے اور پھر یہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔کبھی کبھار خارش اور جوڑوں میں درد کی شکایت بھی مریض کر سکتا ہے۔اسلیے کہہ سکتے ہیں کہ ٹی بی کی ادویات بلکل بے ضرر اور محفوظ ہیں۔
ایک مریض دوسروں کو کس طرح محفوظ رکھ سکتا ہے؟
١-جب مریض کھانسے یا چھینکے تو منہ کو کپڑے سے ڈھانپ لے۔
٢-علاج کے پہلے دو سے چار ہفتے بچوں سے دور رہے۔
٣- چند ہفتے کام یا پڑھائی کے لیے نا جایئں۔
٤- کمرے کو ہوادار رکھیں۔
٥- کمرے میں روشنی کا مناسب انتظام ہو۔
٦- اپنے بچوں کو پیدائش کے پہلے ہفتے میں بی سی جی کا ٹیکہ لگوایئں۔
٧- ادویات کا کورس مکمل کریں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا طریقہ کار ہے کہ مریض ٹی بی کی ادویات کسی کی زیر نگرانی کھائے۔ٹی بی سے اسی وقت محفوظ رہا جا سکتا ہے جب تمام مریض ادویات کا مکمل کورس کریں۔ جیسے ہی علامات ظاہر ہوں بغیر ڈرے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔علاج کے دوران ادویات نہ چھوڑی جایئں۔ٹی بی کے مریض کی خوراک کا خاص خیال رکھا جائے۔

بشکریہ اردو  ویب: تبیان



No comments:

Post a Comment

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

ښه انسان د ښو اعمالو په وجه پېژندلې شې کنه ښې خبرې خو بد خلک هم کوې


لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل ملګروسره معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


خپل نوم ، ايمل ادرس ، عنوان ، د اوسيدو ځای او خپله پوښتنه وليکئ


طریقه د کمنټ
Name
URL

لیکل لازمی نه دې اختیارې دې فقط خپل نوم وا لیکا URL


اویا
Anonymous
کلیک کړې
سائیٹ پر آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید.



بحث عن:

البرامج التالية لتصفح أفضل

This Programs for better View

لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل معلومات نظراو تجربه شریک کړئ

MrAbohisham's Channel

هډه وال کے ایس ایم ایس اپنے موبائل میں حاصل کرنے کے لئے اپنا نمبر لکھ کرسائن اپ کردیں پھر آپ کے نمبر میں ایک کوڈ آے وہ یہاں لکھ لیں




که غواړۍ چی ستاسو مقالي، شعرونه او پيغامونه په هډاوال ويب کې د پښتو ژبی مينه والوته وړاندی شي نو د بريښنا ليک له لياري ېي مونږ ته راواستوۍ
اوس تاسوعربی: پشتو :اردو:مضمون او لیکنی راستولئی شی

زمونږ د بريښناليک پته په ﻻندی ډول ده:ـ

hadawal.org@gmail.com

Contact Form

Name

Email *

Message *

د هډه وال وېب , میلمانه

Online User