Search This Blog

Loading...

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته ډېرخوشحال شوم چی تاسی هډاوال ويب ګورۍ الله دی اجرونه درکړي هډاوال ويب پیغام لسانی اوژبنيز او قومي تعصب د بربادۍ لاره ده


اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ




اللهم لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت و لك الحمد بعد الرضى



لاندې لینک مو زموږ دفیسبوک پاڼې ته رسولی شي

هډه وال وېب

https://www.facebook.com/hadawal.org


د عربی ژبی زده کړه arabic language learning

https://www.facebook.com/arabic.anguage.learning
There was an error in this gadget

Monday, January 31, 2011

حیض (ماہواری) اور جنابت

حیض (ماہواری) اور جنابت سے پاکیزگی





خواتین کی زندگی میں معمول کے مطابق آنے والا ایک معاملہ حیض ہے ، یعنی ماہواری ، جسے اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کی تما م کی تما م بیٹیوں پر لکھ دیا ہوا ہے ،
اور اس کی خبر ہمیں اللہ کے بعد کائنات کی سب سے سچی ہستی ، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے عطافرمائی ہے کہ جب وہ اپنے حج پر تشریف لے گئے تو ان کی سب سے زیادہ محبوبہ ہستی ، اِیمان والوں کی والدہ محترمہ ، أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہُ کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا پر حیض وارد ہو گیا ، اور وہ ایک طرف روتے بیٹھی ہوئی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ان کو روتے دیکھ کر دریافت فرمایا (((((ما لَكِ أَنُفِستِ ::: کیا ہوا ؟ کیا حیض وارد ہو گیا ؟ ))))) انہوں نے عرض کیا """ جی ہاں """ تو اِرشاد فرمایا ((((( إِنَّ هذا أَمرٌ كَتَبَهُ الله على بَنَاتِ آدَمَ فَاقضِي ما يَقضِي الحَاجُّ غير أَن لَا تَطُوفِي بِالبَيتِ ::: یہ کام اللہ نے آدم (علیہ السلام ) کی بیٹوں پر لکھ دیا ہوا ہے لہذاتم وہ سب کچھ کرو جو حج کرنے والا کرتا ہے سوائے گھر ( یعنی خانہ کعبہ ) کا طواف کرنے کے ))))) صحیح البخاری /کتاب الحیض /پہلی حدیث ، صحیح مسلم / کتاب الحج /باب 17 ،
اللہ کے لکھے ہوئے اس معاملے میں سے کسی کے لیے کوئی استثناء نہیں ، جی اللہ کی حکمت سے ، اللہ تعالی کسی میں کوئی ایسا نُقص رکھ دے جس کی وجہ سے وہ اللہ کے لکھے ہوئے اس فیصلے سے مبراء نظر آئے تو وہ اور بات ہے ،لیکن کسی کے لیے کہیں کوئی ایسی خصوصی رحمت یا عنایت نہیں کہ جس کی بنا پر اسے اس حیض والے معاملے سے پاک رکھا گیا ہوا ، ایسی عورت کا ایک سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ عموما ً ایسی عورت اولاد والی بننے کی قابل نہیں ہوتی ،
حیض (ماہواری )جس کے آنے پر کوئی بھی لڑکی یا عورت شرعی طور پر پاکیزگی کے حکم سے نکل جاتی ہے ، اور جب اللہ کے حکم سے اس کا حیض تھمتا ہے تو اس کو دوبارہ شرعی پاکیزگی خود سے اختیار کرنا ہوتی ہے ، جس کے بعد ہی وہ نماز وغیرہ پڑھ سکتی ہے ،
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، یہ معاملہ ساری اُمت میں متفق علیہ ہے کہ کوئی عورت حیض اور نفاس کی حالت میں شرعی طور پر ناپاکی کے حُکم میں ہوتی ہے اور اس حالت میں نماز نہیں پڑھ سکتی ، جب تک کہ حیض رکنے کے بعد وہ ایک مخصوص طریقے پر پاکیزگی اختیار نہیں کرتی ،
اور بڑی عظیم بات ہے کہ یہ احکام قران میں مذکور نہیں ہیں ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سنّت مبارکہ میں ہیں ، اب اللہ جانے مخلتف فلسفوں کے شکار لوگ ان احکام کو کسی کھاتے میں رکھتے ہیں ، حیض و نفاس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اللہ کی طرف سے کی گئی وحی کے مطابق اس کی تعلیم عطا ء فرمائی ، وہ تعلیم جو اللہ کی کتاب قران الحکیم میں نہیں ،
اپنی مسلمان بہنوں ، بیٹیوں کے لیے یہ تعلیمات یہاں پیش کرتا ہوں ،
 ::::: حالت حیض و نفاس میں نماز پڑھنے کی ممانعت ، اور نماز پڑھنے والی پاکیزگی اختیار کرنے کے لیے غُسل کی فرضیت ::::::: ایمان والوں کی والدہ محترمہ ، امی جان عائشہ بنت أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہما و أرضاہما کا فرمان ہے کہ (ایک دفعہ ) فاطمہ بنت حُبیش (رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے دریافت فرمایا """ يا رَسُولَ اللَّهِ إني امرَأَةٌ استحاض فلا أَطهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ::: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) میں استحاضہ کی حالت میں ہی رہتی ہوں لہذا کبھی پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز پڑھنا چھوڑ دوں """ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((((( إنما ذَلِكِ عِرقٌ وَلَيسَ بِالحَيضَةِ فإذا أَقبَلَت الحَيضَةُ فَاترُكِي الصَّلَاةَ فإذا ذَهَبَ قَدرُهَا فَاغسِلِي عَنكِ الدَّمَ وَصَلِّي::: نہیں یہ تو عِرق ہے اور حیض نہیں لہذا جب تمہارا حیض آئے تو تُم نماز چھوڑ دو اور جب (تُمارے حیض کے برابر وقت )چلا جائے تو تُم خود پر سے خون دھو ڈالو اور نماز پڑہو ))))) صحیح البُخاری /کتاب الحیض / باب 8، صحیح مُسلم / کتاب الحیض / باب 14 ،
::::::: فقہ الحدیث :::::::
::::::: مسئلہ 1 ::::::: حیض کی مدت گذرنے کے بعد آنے والا خون استحاضہ کہلاتا ہے ، اور حیض کا حُکم نہیں رکھتا
:::::::مسئلہ 3 ::::::: حیض کی کوئی خاص مدت مقرر نہیں ( اس موضوع پر ان شاء اللہ الگ مضمون میں بات کی جائے گی )

 
::::::: حیض اور جنابت کی حالت سے پاکیزگی اختیار کرنے کا طریقہ :::::::

ایمان والوں کی والدہ محترمہ ، امی جان عائشہ بنت أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہما و أرضاہما کا فرمان ہے کہ (ایک دفعہ )ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور حیض (سے پاک ہونے )والے غُسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اِرشاد فرمایا (((((خُذِي فِرصَةً من مَسكٍ فَتَطَهَّرِي بها ::: کپڑے (یا روئی ) کا کوئی خوشبو لگا ہوا ٹکڑا لے کر اس کے ذریعے پاکیزگی اختیار کرو ))))) اُس عورت نے پھر کہا ::: اس کے ذریعے کیسے پاکیزگی اختیار کروں :::: تو اِرشاد فرمایا ((((( تَطَهَّرِي بها ::: اس کے ذریعے پاکیزگی اختیار کرو)))))) اُس عورت نے پھر پوچھا ::: کیسے ؟ ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((((( سُبحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي ::: سبحان اللہ ، (بس) پاکیزگی اختیار کرو ))))) صحیح البُخاری / حدیث 308 / کتاب الحیض /باب 13 ،
یہ مسئلہ صحیح مُسلم کی ایک روایت میں مزید تفصیل سے بیان ہوا جس میں اس حکم کی جزئیات بھی واضح ہو جاتی ہیں ، اور ساتھ ہی ساتھ غسل جنابت کا طریقہ بھی ، وہ روایت یوں ہے کہ :::
ایمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ بنت أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہا ہی کا فرمان ہے کہ """""" أسماء ( یہ أسماء بنت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہما نہیں بلکہ أسماء بنت یزید بن السکن الانصاریہ ہیں ، انہوں ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے """حیض سے (پاکیزگی کے لیے) غُسل کرنے کے بارے میں دریافت کیا """ تو انہوں نے اِرشاد فرمایا ((((( تَأخُذُ إِحدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدرَتَهَا فَتَطَهَّرُ فَتُحسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ على رَأسِهَا فَتَدلُكُهُ دَلكًا شَدِيدًا حتى تَبلُغَ شُؤُونَ رَأسِهَا ثُمَّ تَصُبُّ عليها المَاءَ ثُمَّ تَأخُذُ فِرصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطَهَّرُ بها ::: تُم میں سے وہ (جس کو اس غُسل کی ضرورت ہو جائے ) اپنے لیے پانی لیے اور بیری (کے پتے ) لے اور پاکیزگی اختیار کرے اور خوب اچھی طرح پاکیزگی اختیار کرے پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اپنے سر کو خوب اچھی طرح سے ملے یہاں تک پانی اُس کے سر کی تہہ تک پہنچے ، پھر وہ اپنے (جسم ) پر پانی ڈالے، پھر (کوئی) خُوشبو دار کپڑا لے کر اُس کے ذریعے پاکیزگی اختیار کرے )))))
تو أسماء نے پھر عرض کیا """ وَكَيفَ تَطَهَّرُ بها ؟::: اور وہ (عورت ) اس کپڑے کے ذریعے کسی طہارت اختیار کرے ؟ """ تو ارِشاد فرمایا (((((سُبحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِينَ بها ::: سُبحان اللہ ، (یہ تسبیح اظہار حیرت کے طور پر ہے کہ سبحان اللہ یہ ایسی بات ہے جو چھپ نہیں سکتی) اُس کے ذریعے پاکیزگی اختیار کرے )))))
اِیمان والوں کی والدہ محترمہ امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ((((( سبحان اللہ ))))) فرمانے کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا """"" كَأَنَّهَا تُخفِي ذلك تَتَبَّعِينَ أَثَرَ الدَّمِ ::: گویا کہ أسما ء بنت یزید کے لیے یہ بات واضح نہ ہو رہی تھی ( تو میں نے ان سے کہا ) اُس کپڑے کے ذریعے خون کے آثار اور خون والے مُقامات کو صاف کرو """"
پھر أسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے جنابت کے غُسل کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((((( تَأخُذُ مَاءً فَتَطَهَّرُ فَتُحسِنُ الطُّهُورَ أو تُبلِغُ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ على رَأسِهَا فَتَدلُكُهُ حتى تَبلُغَ شُؤُونَ رَأسِهَا ثُمَّ تُفِيضُ عليها المَاءَ ::: وہ (عورت جسے یہ غسل کرنا ہے ) پانی لے اور پاکیزگی اختیار کرے اور بہتر ین طور پر صفائی کرے یا مکمل طور پر صفائی کرے ، پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور سر کو اچھی طرح ملے یہاں تک پانی اس کے سر کی تہہ میں بالوں کی جڑوں تک پہنچے ، پھر اپنے (جسم ) پر پانی بہائے )))))
اِیمان والوں کی والدہ محترمہ امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا نے یہ حدیث مبارک بیان فرمانے کے بعد اِرشاد فرمایا """"" نِعمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الأَنصَارِ لم يَكُن يَمنَعُهُنَّ الحَيَاءُ أَن يَتَفَقَّهنَ في الدِّينِ ::: عورتوں میں بہترین عورتیں أنصار کی عورتیں ہیں کہ ان کی حیاء نے انہیں دِین میں سمجھ داری سے نہیں روکا """"
ان روایات میں یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اس صحابیہ رضی عنہا کے بارے بارے پوچھنے کے باوجود اپنی شرم و حیاء کے باعث اُن کو واضح جواب دینے سے گریز فرماتے رہے ، اور ایمان والوں کی والدہ ماجدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات کی وضاحت فرمائی ، جیسا کہ اسی صحیح مُسلم ، کی دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں (کہ اُس صحابیہ رضی اللہ عنہا کے بار بار پوچھنے پر ) """" وَاستَتَرَ وَأَشَارَ لنا سُفيَانُ بن عُيَينَةَ بيده عَلى وَجهِهِ قال قالت عَائِشَةُ وَاجتَذَبتُهَا إلي وَعَرَفتُ ما أَرَادَ النبي صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فقلت تَتَبَّعِي بها أَثَرَ الدَّمِ وقال بن أبي عُمَرَ في رِوَايَتِهِ فقلت تَتَبَّعِي بها آثَارَ الدَّمِ::: اور رسول اللہ صلی علیہ و علی آلہ وسلم نے پردہ فرمایا ، اور سُفیان بن عینہ (اس حدیث کے ایک روای) نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اپنے چہرے کو چھپا کر ہمیں یہ سمجھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے رُخ انور کا پردہ کیسے فرمایا اور ہماری طرف اشارہ فرمایا (کہ جواب دیا جائے ) """" تو میں نے اسے (أسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کو) اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی (بات کی) مُراد سمجھائی """""
دونوں روایات صحیح مُسلم / کتاب الحیض / باب 13 ، میں ہیں ،
سفیان بن عینہ رحمہ اللہ نے جو بات اپنے ہاتھ کے اشارہ سے سمجھائی وہ ان کی اپنی سوچ نہیں ، بلکہ ایک دوسری روایت میں ایسا کرنا براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے عمل مبارک کے طور پر بیان کیا گیا ہے ، اور یہ روایت مندرجہ ذیل ہے :::
""""" ان امرأة أتت النبي صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم فسألته عن غسل الحيض فأمرها أن تغتسل بماء وسدر وتأخذ فرصة فتوضأ بها وتطهر بها قالت كيف أتطهر بها قال تطهري بها قالت كيف أتطهر بها فاستتر النبي صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم بيده وقال سبحان الله اطهري بها قالت عائشة فاجتذبت المرأة وقلت تتبعين بها أثر الدم """"
صحیح ابن حبان ، کتاب الطہارۃ ، باب الغسل، ذکر 35 ، ( ذكر الاستحباب للمرأة الحائض استعمال السدر في اغتسالها وتعقيب الفرصة بعده )
روایات کا تنوع کچھ فارغ العلم لوگوں کو صحیح ثابت شدہ احادیث پر انکار کرنے کی طرف لے جاتا ہے جبکہ اگر غور کیا جائے تو یہ تنوع جسے ایسے لوگ اختلاف کہتے اور سمجھتے ہیں ، معاملات اور مسائل کی وضاحت پیش کرتا ہے ، بہر حال اس وقت ہمارا موضوع یہ نہیں ، ہم اپنے موضوع کی طرف واپس آتے ہوئے ان مذکورہ بالا صحیح احادیث کی فقہ پر غور کرتے ہیں ، تا کہ جن مسائل کو سمجھنے کے لیے یہ سب کچھ بیان کیا گیا ہے وہ وضاحت سے سامنے آ جائیں ، ان شاء اللہ ،
::::::: فقہ الحدیث :::::::
::::::: مسئلہ 1 ::::::: حیض سے فراغت کے بعد عورت کو شرعی طہارت اختیار کرنے کے غُسل کرنا ہوتا ہے
::::::: مسئلہ 2 ::::::: غسل کے لیے ہلکی خوشبووالا ، اور جراثیم کُش مواد والا پانی استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے ( جیسا کہ یہ معروف ہے کہ بیری کے پتے پانی میں ملنے پر کچھ خوشبو بھی دیتے ہیں اور کافی حد تک اینٹی بایوٹک کا کام بھی دیتے ہیں ، اور میّت کو غسل دینے کی تعلیم میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بیری کے پتے والا پانی استعمال کرنے کا فرمایا ہے ، یہ تعلیم شاید """ اعلیٰ تعلیم یافتہ """لوگوں کو باور کروا دے کہ صحیح ثابت شدہ احادیث لوگوں کی بنائی ہوئی باتوں اور فلسفوں میں کیا فرق ہوتا ہے ، اللہ نے توفیق دی تو ان شاء اللہ ایسی کئی احادیث پیش کروں گا جو کسی انسان کی سوچ کا نتیجہ قرار نہیں دی جا سکتی ، اور اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے ہدایت سے روک دیتا ہے )
::::::: مسئلہ 3 ::::::: حیض کے خون سے متاثر جگہوں کو دھونے کے بعد خوشبودار کپڑے ، روئی وغیرہ سے صاف کرنا چاہیے ،
::::::: مسئلہ 4 ::::::: حیض اور جنابت کے غُسل میں عورت کو بھی اپنے سر کے بالوں کو خوب اچھی طرح مل مل کر پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچانا ہوتا ہے ،
::::::: مسئلہ 5 ::::::: شرم و حیاء کی بنا پر مسئلہ بیان کرنے میں کسی اور کی مدد لینا جائز ہے ،
::::::: مسئلہ 6 ::::::: حکمت کی بنا پر کسی زیادہ علم والے کی اجازت سے ، اس کی طلب ہر کوئی اس سے کم علم والا کسی مسئلہ کا جواب دے سکتا ہے ، یا کسی مسئلہ کی تشریح کر سکتا ہے ،
::::::: مسئلہ 7 ::::::: اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ بنت أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہما کی فقہ اور دین میں درست فہم ، اور اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تصدیق ،


 از عادل سہیل ظفر

No comments:

Post a Comment

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

ښه انسان د ښو اعمالو په وجه پېژندلې شې کنه ښې خبرې خو بد خلک هم کوې


لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل ملګروسره معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


خپل نوم ، ايمل ادرس ، عنوان ، د اوسيدو ځای او خپله پوښتنه وليکئ


طریقه د کمنټ
Name
URL

لیکل لازمی نه دې اختیارې دې فقط خپل نوم وا لیکا URL


اویا
Anonymous
کلیک کړې
سائیٹ پر آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید.



بحث عن:

البرامج التالية لتصفح أفضل

This Programs for better View

لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل معلومات نظراو تجربه شریک کړئ

MrAbohisham's Channel

هډه وال کے ایس ایم ایس اپنے موبائل میں حاصل کرنے کے لئے اپنا نمبر لکھ کرسائن اپ کردیں پھر آپ کے نمبر میں ایک کوڈ آے وہ یہاں لکھ لیں




که غواړۍ چی ستاسو مقالي، شعرونه او پيغامونه په هډاوال ويب کې د پښتو ژبی مينه والوته وړاندی شي نو د بريښنا ليک له لياري ېي مونږ ته راواستوۍ
اوس تاسوعربی: پشتو :اردو:مضمون او لیکنی راستولئی شی

زمونږ د بريښناليک پته په ﻻندی ډول ده:ـ

hadawal.org@gmail.com

Contact Form

Name

Email *

Message *

د هډه وال وېب , میلمانه

Online User