Search This Blog

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته ډېرخوشحال شوم چی تاسی هډاوال ويب ګورۍ الله دی اجرونه درکړي هډاوال ويب پیغام لسانی اوژبنيز او قومي تعصب د بربادۍ لاره ده


اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ




اللهم لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت و لك الحمد بعد الرضى



لاندې لینک مو زموږ دفیسبوک پاڼې ته رسولی شي

هډه وال وېب

https://www.facebook.com/hadawal.org


د عربی ژبی زده کړه arabic language learning

https://www.facebook.com/arabic.anguage.learning

Wednesday, January 12, 2011

عظیم سنت کا انکار

عظیم سنت کا انکار

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

محترم ساتھیوں السلام علیکم، عنوان کے بارے میں آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کون سی سنت ہے اور کس نے اس کا انکار کیا ہے تو ہم یہ بتاتے ہیں وہ عظیم سنت داڑھی ہے اور اس کا انکار  ادارہ المورد کے سرپرستِ اعلی اور( آج ٹی وی) کے اسکالر جاوید احمد غامد ی نے کیا ہے ۔
نظریہ غامدی کی اصلاح
متحرم ساتھیوں :جن دلائل کی بنیا د پر غامدی صاحب نے داڑھی کے سنت ہونے کا انکار کیا ہے آیئے ان دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔
غامدی کی پہلی دلیل کی اصلاح:
پہلے ہم غامدی صاحب کی پہلی دلیل کا جائزہ لیتے ہیںجس میں انھوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کی بنا پر ایسی تمام چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے جن سے امارت کی نمائش ہو یا بڑائی مارنے شیخی بگھارنے ،دون کی لینے ،دوسروں پر رعب جمانے یا اوباشوں کے طریقے پر دھونس دینے والوں کی وضع سے تعلق رکھتی ہوں۔ رشیم پہننے قیمتی کھالوں کے غلاف بنانے اور سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے روکاہے یہاں تک کے چھوٹی ڈاڑھی اور بڑی مونچھیں رکھنے والوں کو متکبرانہ وضع ترک کر دینے کی نصیحت کی اور فرمایا کہ اپنا شوق ڈاڑھی بڑھا کر پورا کرلیں لیکن مونچھیں ہر حال میں چھوٹی رکھیں(اس نصیحت کا صحیح مفہوم یہی تھا مگر لوگوں نے اسے ڈاڑھی بڑھانے کا حکم سمجھا اور اس طرح ایک ایسی چیز دین میں داخل کر دی جو اس سے کسی طرح متعلق نہیں ہو سکتی۔(ماہنامہ اشراق مئی٢۲۰۰۷٠٠٧صفحہ٦٥ ۶۵) اب ان روایات کو دیکھتے ہیں کہ ان میں کیا بات بیان ہوئی ہے
مفہومِ حدیث:عبداللہ بن عکیم سے روایت ہے ہم حذیفہ کے ساتھ تھے مدائن میں انہوںنے پانی مانگا ایک گاؤں دالا چاندی کے برتن میںپانی لایا انہوں نے پھینک دیا اور کہا میں تم سے کہتا ہوں میں اس سے بھی کہ چکا تھا کہ اس برتن میں مجھ کو پانی نہ پلانا کیونکہ رسو ل اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت پیو(ایک اور روایت میں کھانے کے بھی الفاظ ہیں)سونے چاندی کے برتن میں اور مت پہنو دیبا اورحریر(دیبا اور حریر ریشمی کپڑے کی قسم ہے) کیونکہ یہ کافروں کے لئے ہیں دنیا میں اور تمہارے لئے آخرت میں قیامت کے دن۔(مسلم کتاب اللباس وزینت جلد۵٥،ترمذی کتاب الاشرابہ جلداول)مفہومِ حدیث:ابن عمر نے کہا میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ان دونوں کانوں سے جو شخص اپنی ازار لٹکاوے گا غرور کی نیت سے تو اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نہ دیکھے گا۔(مسلم کتاب اللباس وزینت جلد۵) مفہومِ حدیث:ابوہریرہ سے روایت ہے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص اکڑا رہا تھا چلنے میں اپنے بالوں اور لباس(ایک روایت میں چادر کے الفاظ بھی ہیں)میں اترا رہا تھا تو اللہ تعالٰی نے اس کو زمین میںد ھنسا  دیا پھر وہ قیامت تک اسی طرح گھستا چلا جاتا ہے(۔مسلم کتاب اللباس وزینت جلد ٥۵)ابن عمر سے روایت ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپصلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ہاتھ میں حریر اور دوسرے ہاتھ میں سونا تھا آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور عورتوں کو حلال ہیں۔(ابن ماجہ کتاب اللباس جلد٣۵)۔ان روایات پر غور کریں تو تما م باتیں واضح ہیں کہ جہاں لباس اور وضع  قطع میں تکبرکو بیان کرنا تھا وہاں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو خود واضح کردیا اور سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع فرمایا ہے اس میں حدیث کے الفاظ میں( فعل امر) ہے یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے کر منع کیا ہے اس وجہ سے تما م علماء اس بات پر متفق ہیں کہ سونے چاندی کے برتن میں کھانا حرام ہے دیکھئے(شرح امام نووی صحیح مسلم کتاب اللباس وزینت جلد۵) اور ریشم اور سونے کو حرام حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے خود  فرمادیا اب اگرکوئی یہ کہتا ہے کہ ان روایات میں تکبر کی وجہ سے روکا گیا ہے جیسا غامدی صاحب کہتے ہیں تو اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میں تکبر نہ کرو تو کیا اس کے لئے سونے چاندی کے برتنوں میں کھانااور سونا پہننا جائز ہو جائے گاہرگز نہیں ہو گا کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں میں کھانے سے منع کیا اور سونا مردوں پر حرام کیادوسری بات اس میں یہ ہے کہ سونا اور ریشم عورتوں کو جائز کیا جو لباس اور زیورات پر زیادہ اتراتی ہیں اور تکبر کرتی ہیںاور مردوں کو حرام کیا اسکی کیا وجہ ہے  اس لئے کہ یہاں تکبر کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ زینت کی بات ہے عورتیں فطری طور میں زیب و زینت اور زیورات کو پسند کرتی ہیں اس لئے آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عورتوں کے لئے جائز رکھا، اس سے بات یہی واضح ہوتی ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں تکبر کو واضح کرنا تھا وہاں خود واضح کردیا مگر ڈاڑھی کے بارے میں کوئی متکبرانہ وضع کے الفاظ نہیں ہیں اگر متکبرانہ وضع کو واضح کرنا ہوتا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم اس طرح فرما سکتے تھے کہ ڈاڑھی بڑھاؤ اور موچھیں پست کرو اور متکبرانہ وضع سے بچو،جیساکہ لباس کے بارے حدیث میں تکبر کو خود واضح کیا ہے مگر ڈاڑھی والی حدیث میں اہل کتاب اور مشرکین کے الفاظ آئے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے یہ ہم غامدی صاحب کی دوسری دلیل میں اس حدیث کی وضاحت میں بیان کریں گے۔ اب یہ بات واضح ہوگئی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے متکبرانہ وضع ختم کرنے کی نصیحت کے طور پر ڈاڑھی رکھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ یہ تمام انبیاء  کی سنت ہے اس بات کو ہم آگے بیان کریں گے۔
غامدی کی دوسری دلیل کی اصلاح :
غامدی نے اپنی ویب سائیٹ ( www.ghamidi.org)  میں اپنے ایک لیکچر میں ڈاڑھی سے متعلق کہتے ہیں کہ ایک فطری چیز ہے میں اس کو پسند کرتا ہوں پسندیدہ چیز ہے صحالین کا طریقہ ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے اس کے بعد   غامدی صاحب سنت کی واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں سنت وہ ہوتی ہے جس پر شروع سے اب تک امت کا اجماع ہو مگر ہم ذرا اوپر جاتے ہیں تو اس مسئلہ پر بہت بحث ملتی ہے اور قاضی عیاض نے علماء کاقول نقل کیا ہے کہ وہ ڈاڑھی نہ رکھنا  ناپسندیدہ قرار دیتے تھے اس کے بعد کہتے ہیں کیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنت کے طور پر جاری کیا ہے تو اس کے لئے دین کے مآخذکودیکھنا پڑے گا کہ اس میں کیا بیان ہوا ہے قرآن مجید میں یہ مسئلہ سرے سے زیر بحث ہی نہیں ہے ، اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے جو روایات بیان ہوئی ہیں اصلاَ تین روایات  بیان ہوئی ہیں۔
سب سے پہلے تو ہم یہ بات واضح کر دیں قاضی عیاض کے حوالہ سے جو بات ہے وہ ان کا اپنا قول ہے نہ کے تمام علماء کادیکھئے(امام نووی شرح مسلم باب کتا ب الطہارة  ) اور ہم یہ کہتے ہیں چاہے ساری دنیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کو نہ مانے مگر ایمان اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا ء ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کیاجائے اس کے بعد اگر ہم دین کے مآخذ(قرآن وحدیث )کو دیکھئے تو قرآن میں ڈاڑھی کا اشارہ ملتا ہے ترجمہ آیت''ہارون نے اے میرے ماں جائے بھائی میری داڑھی نہ پکڑ اور سر کے بال نہ کھینچ ''(سورہ طہ آیت۹۴)مگر اگر ہم قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو اس میں ختنہ کا کہیں ذکر نہیں ہے مگر غامدی صاحب ختنہ کو تو سنت کہ رہے ہیں اس  لئے کہ اس کا تذکرہ احادیث میں ہے مگر داڑھی کو سنت ماننے کو تیار نہیں ہیں جس کا اشاراہ قرآن مجید موجود ہے۔ اور اس کا تذکرہ احادیث میں بھی ہے اب ان احادیث کی طرف آتے ہیںجو غامدی صاحب نے بیان کی ہیں۔
پہلی حدیث:قصرہ کے چند لوگ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں اور انھوں نے اس طرح  کی وضع بنا رکھی تھی کہ مونچھیں بڑی ہوئی تھیں اور ڈاڑھی منڈیں ہوئیں تھیں تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تم نے کیسا حلیہ بنا رکھا ہے تو ان لوگوں نے کہا ہمارے بادشاہوں نے یہ حلیہ ہمارے لئے مقرر کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اللہ نے جو میری فطرت بنائی ہے جو اس میں احکام رکھے ہیں اس میں تو یہ صورت کوئی پسندیدہ صورت نہیںہے۔ اس کے بارے میں ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ تاریخ کی روایت ہے محدثین نے اسے سرے سے قبول ہی نہیں کیا  یہ بات واقعی صحیح ہے کہ یہ روایت حدیث ضعیف  ہے ۔دوسری حد یث امَ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا د س چیزیں فطرت میں سے ہیں:
(۱١)موچھیں کترنا، (۲٢)داڑھی چھوڑ دینا،(۳٣)مسواک کرنا، (۴٤) ناک میں پانی ڈالنا، (۵٥)ناخون کاٹنا،
 (۶٦)پوروں کو دھونا ( یعنی انگلیوںمیں خلال کرنا)(۷٧)  بغل کے بال کاٹنا ،(۸٨) زیرِ ناف کی بال کاٹنا ،
(۹٩)پانی سے استنجاء کرنا۔
 مصعب جو راوی ہیں کہتے ہیں دسویں چیز میں بھول گیا شاید کلی کرنا ہو'' اس حدیث کو  بیان کرنے کے بعد غامدی صاحب نے جو حدیث کا مسلمہ اصول بیان کیا  اگر راوی حدیث کا اختلاف بیان کرے یا اپنے حافظہ کے معاملہ میں اس طرح کی کسی صورت کا شکار ہو جاتا ہے تو یہ اس کی روایت کا ضعف مانا جاتا ہے مگر یہ اصول کہاں بیان ہوا ہے یہ بیان نہیں کیا اس کے بعد کہتے ہیں بات اگریہی تک ہو تی تب بھی ٹھیک تھا مگر اس کی دسویں چیز کو شامل کر لیں تو اس میں ایک اہم چیز نہیں ہے وہ ہے ختنہ اور اس طرح کی دوسری روایت میںراوی بیان کرتا ہے جس جگہ داڑھی تھی اس جگہ ختنہ ہے کا لفظ ہے اور مصابع مشکوة نے بھی یہی بات بیان کی ہے اور کرینہ قیاس بھی یہی بات ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پانچ چیزیں جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم بیان کی ہیں جو صحیح ترین روایات میں بیان ہوئی ہے اس میں ختنہ ہے یہ اس روایت کا حال ہے اس سے کس بنیاد پر حرمت و حلت کی جاسکتی ہے سب سے پہلے ہم یہ معلوم کرتے ہیں کہ کیا یہ روایت صرف مشکوة میں بیان ہوہے اور دوسری روایت جس میں ختنہ کا ذکر ہے کہاں بیان ہوئی ہے پہلے ہم دونوں روایات کو آپ کے سامنے رکھتے ہیں پھر دیکھتے ہیں اس میں کیا بات بیان ہوئی ہے امَ عائشہ  کی حدیث صرف مشکوة میں بیان نہیں ہوئی ہے بلکہ متعدد محدثین نے اسے روایت کیا ہے۔ مفہوم حدیث: امَ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا د س چیزیں فطرت میں سے ہیں ۔(۱١)موچھیں کترنا (۲٢)داڑھی چھوڑ دینا(٣۳)مسواک کرنا (٤۴) ناک میں پانی ڈالنا (٥۵)ناخون کاٹنا (٦۶)پوروں کو دھونا ( یعنی انگلیوںمیں خلال کرنا)(٧۷)  بغل کے بال کاٹنا (٨۸) زیرِ ناف کی بال کاٹنا(٩۹)پانی سے استنجاء کرنا مصعب جو راوی ہیں کہتے ہیں دسویں چیز میں بھول گیا شاید کلی کرنا ہو'' فطرت سے مراد سنت ہے مگر بعض نے اسے دین کہا ہے مگر پہلی بات ہی صحیح ہے (جو آگے روایات سے بھی واضح ہو جائی گی) دیکھئے (فتح الباری شرح بخاری ، شرح مسلم امام نووی) اس حدیث کو روایت کیا(مسلم کتاب الطہارت باب سنت باتوں کا بیان جلد اول،ابوداؤد کتاب الطہارت باب مسواک پیدائشی سنت جلد اول،ترمذی کتاب الادب باب ناخن تراشنا جلد۲٢،ابن ماجہ کتاب کتاب الطہارت باب فطرت کے بیان میں جلد اول،سنن نسائی کتاب الزینہ باب زینت اور آرائش کابیان،مسند ابو عوانہ کتاب الطہارت باب فطرت  کابیان، ) اب دیکھئے محدثین نے اس روایت کے بارے میں کیا بیان کیا ہے ۔حافظ ابن حجر بخاری کی شرح فتح الباری میں فطرت کے بیان میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے(بخاری کتاب اللباس مع فتح الباری شرح بخاری جلد٠۱)اور دوسری اہم بات اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے اور تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ بخاری اور مسلم میں ایک حدیث بھی ایسی نہیں جو حجت کے قابل نہ ہو۔ ابو  اسحق ابراہیم بن اسفرائنی کہتے ہیں فن حدیث کے ماہرین کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ بخاری اور مسلم کے سب ہی اصول و متون قطعی صحیح ہیں۔ دیکھئے امام سخاوی کی فتح المغیث جلد اول ص ٥٩۵۹،امام سخاوی کی ا لمنکت جلد اول ص٣۳۷۷٧٧، اور مذہبی آفسانے اور ان کی حقیقت میں جلد ۲٢ ص۱۵۷٥٧،پر حبیب الرحمن کاندلوی کہتے ہیں بخاری کو کتاب اسناد کی عمدگی اور مظبوطی کے پہلو سے تمام امت قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح اور مستند کتاب مانتے ہیں اور حافظ عراقی اپنی کتاب الساةالحدیث میں لکھتے ہیں اہل مغرب بخاری پر مسلم کو ترجیح دیتے ہیں) اس کے بعد اس حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں غامدی  صاحب نے داڑھی کے بدلے ختنہ کا ذکر کیا ہی مفہوم حدیث:عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فطرت سے ہے: (۱١)کلی کرنا (۲٢)ناک میں پانی ڈالنا(٣۳)مسواک کرنا (٤۴)موچھیں کترنا (۵)ناخون کاٹنا (۶٦)پوروں کو دھونا ( یعنی انگلیوںمیں خلال کرنا)(٧۷)  بغل کے بال کاٹنا (٨۸) زیرِ ناف کی بال کاٹنا (٩۹)اپنے ازار پر پانی چھڑکنا(١۱۰٠)ختنہ کرنا۔( ابوداؤد کتاب الطہارت باب مسواک پیدائشی سنت جلد اول،ترمذی کتاب الادب باب ناخن تراشنا جلد۲٢،ابن ماجہ کتاب کتاب الطہارت باب فطرت کے بیان میں جلد اول)یہ بات صحیح ہے کہ پہلی روایت میں داڑھی اور دوسری میں ختنہ کا  لفظ ہے مگر اگر ہم غور کریں تو پہلی روایت میں استنجاء کالفظ ہے اور دوسری میں استنجاء کا ذکر نہیں ہے اور  ا زار پر پانی چھڑکنا ہے اور استنجاء کو غامدی صاحب نے اپنی کتاب اخلاقیات میں تمام انبیاء  کی سنت قرار دیا ہے اب اگر اس روایت میں راوی نے  استنجاء کو ذکر نہیں کیا تو یہ روایت کیااستدلال کے قابل نہیں ہے ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ سب سنتیں ہیں اگر غامدی صاحب ان روایات کو ابوداؤ میں پڑھ لیتے تو  ان کی یہ غلط فہمی دور ہو جاتی کہ داڑھی کے بار ے میں صرف تین روایات بیان ہوئی ہیں سنن ابوداؤ میں عمار بن یاسر والی روا یت اس طرح ہے۔ مفہوم حدیث: عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فطرت سے ہے :(١۱)کلی کرنا (٢۲)ناک میں پانی ڈالنا اور بیان کیا حدیث عائشہ کی مانند جو اوپر گزری مگر عمار نے داڑھی چھوڑنے کو ذکر نہیں کیا اور ختنے کا ذکر کیا اورازار پر پانی چھڑکنے کو اور استنجاء کو بیان نہیں کیا ۔کہا ابواؤد نے اسی مانند ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے پانچ سنتیں بیان کی سب سر میں ہیں ان میں سے ایک مانگ نکالنا ہے اور داڑھی چھوڑنا اس میں نہیں ہے اور محمد بن عبداللہ بن ابی مریم کی روایت میں ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے داڑھی چھوڑنا موجود ہے اور ابراہیم نخعی سے بھی ایسا ہی مروی ہے ،اس میں داڑھی اور ختنہ کرنا دونوں موجود ہیں۔ اسکے بعد سنن نسائی میں مروی ہے''  طلق بن حبیب  فرماتے ہیں کہ دس باتیں سنت میں شامل ہیں (١۱)کلی کرنا (٢۲)ناک میں پانی ڈالنا(٣۳)مسواک کرنا (٤۴)موچھیں کترنا (٥۵)ناخون کاٹنا (٦۶)داڑھی بڑھانا(٧۷)  بغل کے بال کاٹنا (٨۸) زیرِ ناف کی بال کاٹنا(٩۹)پانی سے استنجاء کرنا(١۱۰٠)ختنہ کرنا( سنن نسائی کتاب الزینہ باب زینت اور آرائش کابیان)اب اس کے بعد کسی قسم کا شک نہیں رہتا کہ یہ تمام انبیاء کی سنتیں ہیں اورجس صحابہ  کوجو سنت  یاد ہوئی بیان کردی۔اس کے بعد تیسری حدیث میں جو غامدی صاحب نے پیش کی ہے۔ مفہومِ حدیث:'' ابن عمرسے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کی مخالفت کرو ڈاڑھی بڑھاؤ اور موچھیں پست کرو''اس طرح ابوہریرہ سے (مجوسیوں کی مخالفت) اور ابو امامہ سے (اہل کتاب کی مخالفت) بیان ہوا ہے اس کے بعد کہتے ہیں اگر روایت اتنی ہوتی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ڈاڑھی بڑھاؤ اور موچھیں پست کروتو بات سمجھ آتی ہے مگر بات یہاں سے شروع ہے مشرکوں کی مخالفت کرو تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کیا بات فرمانا چاہتے تھے اس کے تین امکان ظاہر کئے ہیں پہلے امکان بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب پر سبقت کے لئے یہ بات بیان کی ہو مگر اگر ہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی طریقہ دیکھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی کوئی سبقت نہیں چاہتے تھے بلکہ ان کی موافقت کے طریقہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے تھے اور ایک حدیث بیان کی لیکن پوری حدیث بیان نہیں کی اور اس میں اپنے مطلب کا حصہ نکال لیا پوری حدیث اس طرح ہے  مفہومِ حدیث۔''ابن عباس  سے روایت ہے جب تک کسی بات میں حکم نہ آتا حضورصلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے اہل کتاب اپنے سر کے بال لٹکائے رکھتے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے چنانچہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم بھی سر کے بال پیشانی مبارک کی طرف لٹکاتے تھے( اس حصے کو بیان نہیں کیا'' لیکن بعد میں بیچ سے مانگ نکالتے تھے'') (بخاری کتاب اللباس باب مانگ نکالنا جلد ٣،مسلم کتاب الفضائل باب جلد۶) امام نووی نے اس حدیث کی شرح میں کہا علماء نے کہا مانگ نکالنا سنت ہے(جیسا اوپر حدیث میں آیا)کیونکہ یہی آخری فعل ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلمکا،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اختیار کیا وحی سے اور اہل کتاب کی موافقت تالیف قلب کے لئے تھی اوائل اسلام میں بہ مخالفت مشرکین جب اللہ تعالٰی نے اسلام کو غالب کر دیا اور اس کی ضرورت نہ رہی تو حکم ہوا ان کے خلاف کرنے کا جیسے خضاب کے باب میں آیا ہے(شرح مسلم امام نووی)  اور حافظ ابن حجر   فتح الباری میں اس حدیث کی شرح میں کہتے ہیںکہ امام ماعمر کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا مانگ نکالنے کا اس کے مشبہ بالوں کو رنگنا عاشورہ کا روزہ کعبہ کا قبلہ ہونا یہاں تک کہ اہل کتاب کو کہنا پڑا کہ حضوورصلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسا معاملہ نہیں چھوڑا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مخالفت نہ کرتے ہوں یہ وہ چیز ہے جس پر معاملہ طے ہو چکاہے(یعنی اہل کتاب کی مخالفت کرنی ہے)(فتح الباری شرح بخاری کتاب اللباس باب مانگ نکالناجلد١۱۰٠) ا س سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرتے اور جو موافقت کی بات تھی وہ اوائل اسلام میں تھی اس کو حافظ ابن حجر نے بھی یہی بیان کیا ہے(حوالہ ایضاَ)  اور کہتے ہیں کہ دوسرا امکان بدعت کا ہو سکتا ہے کہ کوئی بدعت رواج پاگئی ہو اس کو عملا ختم کرنا ہو اس کی مثال دیتے ہوئے کہا جیسا مفہومِ حدیث ابو ہریرہ  سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرو وہ بال نہیں رنگتے تم رنگا کرو''(بخاری ومسلم)  تما م روایت جمع کریں تو یہ پتا چلاکہ یہ ایک بدعت تھی جس کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دے کر ختم کیا ا س کو کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ بال رنگنا کوئی سنت ہو گئی ہے ۔یہ کوئی بدعت نہیں ہو سکتی کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی ہر بات میں مخالفت کرتے تھے اور یہ بات بھی اسی زمرے میں آتی ہے کیونکہ اس میں بھی وہی مخالفت کے الفاظ ہیں اس کے بعد جو حدیث غامدی صاحب نے بدعت کی دلیل میں دی ہے پہلے ہم وہ حدیث بیان کرتے ہیں اس کے بعد اس میں جو اصل بات بیان ہوئی ہے  اسے واضح کریں گے مفہومِ حدیث :ابو ہریرہ  سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرو وہ بال نہیں رنگتے تم رنگا کرو''   (بخاری کتاب اللباس ومسلم کتاب اللباس )  اگر ہم ان تما م احادیث کو جمع کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس حدیث میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ خضاب سے منع فرمایا ہے مسلم میں جابر سے روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ بچو سیاہی سے۔  اس کے علاوہ متعدد روایات میں سیاہ خضاب کی ممانعت ہے دیکھئے(نسائی،ابوداؤد ،ابن ماجہ،ابن ابی شیبہ،بہقی) اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اصل مسئلہ خضاب لگانا یا نہ لگانا نہیں ہے کیونکہ صحابہ میںسے اکثر نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک پرخضاب لگا ہوا دیکھا ہے اور کسی صحابہ نے نہیں بھی دیکھا ہے اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب کیا بھی ہے اور کبھی نہیں بھی کیا ہے اب اصل بات جو سامنے آئی ہے کہ ایک تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اہل کتاب کی مخالفت کرنا مقصودتھااور  دوسرے سنت بال رنگنا یا نہ رنگنا نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خضاب کرنا چاہے تو وہ سیاہ خضاب سے بچے اس لئے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے  اور امام نووی شرح مسلم میں کہتے ہیں سیاہ خضاب حرام ہے اور دوسری جگہ اپنی کتاب (المجموع شرع المذہب جلد اول ص۳۲۳٢٣) میں کہتے ہیں سر اور داڑھی کے بالوں کو سیاہ خضاب لگانے کی مذمت پر محدثین کا اتفاق ہے صحیح یہ ہے کہ سیاہ خضاب حرام ہے۔  اور تیسرا امکان وضع قطع کا بیان کیا جس کو  ہم نے پہلے ہی  رد کر دیا ہے(دیکھئے غامدی کی پہلی دلیل کاجواب) اور جو بات  اہل کتاب اور مشرکین کااس حدیث میں بیان کیوں ہواہے(نوٹ :یہاں ایک بات واضح کر دیں کہ اہل ایمان کے لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا حکم فرمادینا ہی کافی ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا تو اس حکم پر عمل کرنا ہے) اس بارے میں جو بات ہمارے فہم میں آئی ہے وہ ہم بیان کر دیتے ہیں ۔اہل کتاب موسیٰ کو مانتے تھے اور مشرکین عرب ابراہیم  کو اپنا جددِ امجد مانتے تھے اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کی مخالفت کرو (یعنی انھوں نے انبیاء  کی اس سنت کو چھوڑ دیا ہے تم ان کے خلاف کرو اور سنت کو اپناؤ)اور یہ بات اس لئے بھی قرینہ قیاس ہو سکتی ہے کہ اکثر محدثین اس حدیث کو تمام انبیاء  کی سنت والی حدیث کے بعد لائے ہیں جو بات ہمارے فہم میں تھی وہ ہم نے بیان کر دی باقی(واللہ اعلم) 
 تمہید : داڑھی جیسی عظیم سنت کے انکار صرف اپنی عقل کے قیاس پر اور اپنے خود ساختہ اصول کی بنیاد پر کرنا صحیح نہیں ہے دین کو سمجھنے کے لئے یہ دیکھنا چاہیے کہ سلف نے کیا سمجھا تابعین نے کیا سمجھا صحابہ کرام نے کیا سمجھا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کیا سمجھایا یہ اس لئے کہ یہ سب صحابہ کرام کے دور سے قریب کے لوگ ہیں اور یہ ہم سے بہتر بات کو سمجھنے والے ہیں جو اس وقت کہی گئی ہے اور آج چودہ سو سال بعد کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ انہوں نے بات غلط سمجھی ہے اور اصل بات میں نے سمجھی ہے تواس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص ایک آدمی کی تصویر دیکھ کر یہ اندازہ لگا لے کہ اس تصویر والے شخص کے بات چیت کرنے کا انداز کیسا ہے اور یہ کہے کہ جو شخص اس سے مل کر آیا ہے وہ اس کے بارے میں غلط کہ رہا ہے اور میری بات صحیح ہے تو یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے ا للہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔
(آمین)
siratulhuda.com

No comments:

Post a Comment

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

ښه انسان د ښو اعمالو په وجه پېژندلې شې کنه ښې خبرې خو بد خلک هم کوې


لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل ملګروسره معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


خپل نوم ، ايمل ادرس ، عنوان ، د اوسيدو ځای او خپله پوښتنه وليکئ


طریقه د کمنټ
Name
URL

لیکل لازمی نه دې اختیارې دې فقط خپل نوم وا لیکا URL


اویا
Anonymous
کلیک کړې
سائیٹ پر آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید.



بحث عن:

البرامج التالية لتصفح أفضل

This Programs for better View

لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


که غواړۍ چی ستاسو مقالي، شعرونه او پيغامونه په هډاوال ويب کې د پښتو ژبی مينه والوته وړاندی شي نو د بريښنا ليک له لياري ېي مونږ ته راواستوۍ
اوس تاسوعربی: پشتو :اردو:مضمون او لیکنی راستولئی شی

زمونږ د بريښناليک پته په ﻻندی ډول ده:ـ

hadawal.org@gmail.com

Contact Form

Name

Email *

Message *

د هډه وال وېب , میلمانه

Online User