Search This Blog

Loading...

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته ډېرخوشحال شوم چی تاسی هډاوال ويب ګورۍ الله دی اجرونه درکړي هډاوال ويب پیغام لسانی اوژبنيز او قومي تعصب د بربادۍ لاره ده


اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ




اللهم لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت و لك الحمد بعد الرضى



لاندې لینک مو زموږ دفیسبوک پاڼې ته رسولی شي

هډه وال وېب

https://www.facebook.com/hadawal.org


د عربی ژبی زده کړه arabic language learning

https://www.facebook.com/arabic.anguage.learning
There was an error in this gadget

Friday, April 8, 2011

واقعے کی دہشت، یا خدا کی ہیبت؟

واقعے کی دہشت، یا خدا کی ہیبت؟

 

زمین کا دہلنا خدا کی ایک نشانی ہے۔ جس طرح کہ سورج یا چاند کا گہنا جانا یا کوئی اور کائناتی واقعہ جو اِس دنیا کے زوال کی جانب سمجھ داروں کےلئے غیرمعمولی اشارہ کر جایا کرے۔ ایسے اشارے پا کر خوفزدہ ہو جانا اور خدا کے آگے گریہ اور استغفار کرنا اور ایسی سنجیدگی کا آدمی پر طاری ہو جانا کہ حالت غیر ہونے لگے، خدا کی تعظیم کی علامت ہے اور بصیرت کا مقیاس اور سنت کی بہترین تطبیق۔
تاہم اس’خوفزدہ ہونے‘ کے معاملہ میں دنیا کے عام بے علم لوگوں کے انداز میں اور موحدین کے اسلوب میں زمین آسمان کا فرق ہے....
طبعی خوف کسی ہولناک واقعہ سے ہر کسی کو آتا ہے۔ مومن کیا کافر، موحد کیا مشرک، سب کے اندر خدا نے یہ چیز رکھی ہے اور اس پر ہرگز کوئی ملامت نہیں ۔ نہ ہی یہ توحید کے منافی ہے۔
البتہ توحید کی نعمت سے محروم لوگ یہیں پر رک جاتے ہیں ۔ ’گرہن‘ کے وقت سورج یا چاند کی جانب اشارے کر کرکے ایک دوسرے کو متوجہ کرائیں گے۔ اس پر تعجب کریں گے۔ سراسیمہ نظر آئیں گے، بشرطیکہ کچھ فطرت سلامت ہو..مگر اس میں زوالِ دنیا اور جلالِ خداوندی کا پیغام نہ پڑھ پائیں گے اور نہ کسی ایسے ایمانی احساس کا تذکرہ ہی کرپائیں گے....!!!
سورج کا بے نور ہوجانا ایک مومن کو بھی اسی طرح ڈراتا ہے جس طرح کہ ایک غیرمومن کو۔ مگر مومن کو اس ڈر کے ساتھ عین اس وقت خدا کا ڈر بھی پوری شدت اور ہیبت کے ساتھ آتا ہے اور دنیا پر شام پڑنے کی فکر بھی لاحق ہوتی ہے۔تب وہ خدا کی عظمت اور کبریائی میں لرزتے ہوئے اس کی تعظیم کے جس قدر کلمات کہہ سکتا ہے بے ساختہ کہتا جاتا ہے اور انابت و استغفار کے جن پیرایوں پہ قدرت رکھتا ہے والہانہ ادا کرنے لگتا ہے۔ پھر خدا کے آگے طویل سجدے کرکے اس کی عافیت کا سوالی ہوتا ہے۔
زمین لرزتی ہے تو آدمی کو اپنی ہستی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ کوئی کسی اور وقت کتنا بھی تصنع کرلے اس وقت ہر آدمی بے بسی کے ساتھ ہر انداز سے ہاتھ پاؤں مارتا اور بچاؤ کےلئے جس حد تک ہو سکے بھاگ دوڑ یا ہائے دہائی کرتا ہے اور خدا کو بھی آواز دیتا ہے۔ زلزلے کے مابعد اثرات دیکھ کر ہر شخص ایک سنسنی اور سراسیمگی محسوس کرتا ہے۔ ہر شخص وہاں سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ مگر ایک موحد کی سنجیدگی بالکل اور طرح کی ہوتی ہے۔ زمین کی دہل ایک واقعے کے طور پر ہی اس کو نہیں ڈراتی بلکہ اس کے دل پر خدا کی ہیبت کے ہتھوڑے بھی برساتی ہے۔ وہ اس وقت صرف اس واقعے کے ساتھ نبرد آزما نہیں ہورہاہوتا۔ اس وقت وہ خدا کی عظمت اور جبروت اور اس کی پکڑ کی شدت کے ایسے ایسے اشارے بھی دل پر محسوس کررہا ہوتا ہے جن کا بیان زبان کر ہی نہیں سکتی ۔ استغفار، توبہ، انابت، تضرع اور خشیت کے ساتھ رب العزت کی جانب بار بار رجوع کرتاہے۔ زلزلے کے اثرات کو وہ کسی اخباری انداز سے نہیں دیکھتا۔ نہ ہی اس کا ذکر وہ اس انداز میں کرتا ہے جس انداز سے عام طور پر مجلسوں اور بیٹھکوں میں ان واقعات یا ان کے مابعد اثرات کے چشم دید گواہ اپنی ’حیرانی و سراسیمگی‘ کے اظہار میں کرتے ہیں اور جس میں خوف اور دہشت تو بے تحاشا جھلکتی ہے، کیونکہ یہ ایک طبعی انسانی رد عمل ہے اور اس میں کوئی بھی معیوب بات نہیں ، مگر اس کا خلاصہ کیا جائے تو یہ ایک ’واقعے کی دہشت‘ ہوتی ہے نہ کہ ’خدا کی ہیبت‘۔
ایک موحد کے خوف میں اور ایک جاہل کے خوف میں بس یہی فرق ہے۔
ضروری ہے کہ لوگ اس ’خوف‘ کی تصحیح کرلیں یا یہ کہ اس ’خوف‘ کی تکمیل کر لیں ۔ اس ’طبعی خوف‘ کے ساتھ ’شرعی خوف‘ شامل کرلیں اور خدا کی نشانیوں کو دیکھنے کا موحدانہ اسلوب سیکھیں ۔ ’طبعی خوف‘ پر انسان کےلئے کوئی اجر نہیں ۔ مگر’شرعی خوف‘ میں گزرا ہوا ایک لمحہ بعید نہیں کہ برسوں کی ریاضت سے بہتر ہو۔ کیونکہ’خوف‘ خدا کی تعظیم اور خدا کی بندگی و عبادت کی ایک بہترین صورت ہے اور ان مواقع پر تو واجب تر ہو جاتا ہے۔
٭٭٭٭٭
امام الموحدین محمد رسول اللہ ﷺ خدا کی جب کوئی ایسی نشانی رونما ہوتی تو آپ پر خدا کے خوف اور خدا کی ہیبت اور تعظیم اور خشیت و انابت کی ایسی کیفیت طاری ہوتی، جس کی ایک تصویر ہمیں بعض احادیث میں نظر آتی ہے:
بخاری (1) کی روایت میں ابوبکرہؓ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ سورج کو داغ لگ گیا۔ نبی ﷺ اٹھے آپ اپنی بالائی چادر زمین پر کھینچتے ہوئے جارہے تھے یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہوئے۔ بخاری (2) ہی کی ایک روایت کے الفاظ ہیں : تب رسول اللہ ﷺ اپنی چادر زمین پر کھینچتے ہوئے نکلے یہاں تک مسجد جا پہنچے۔ لوگ بھی ہر طرف سے آپ کے پاس پہنچنے لگے۔ نسائی (3) کی روایت میں ہے : جلدی کے باعث آپ کی بالائی چادر زمین پر گھسٹتی جارہی تھی۔ صحیحین (4) میں ابو موسی الاَشعری کے الفاظ ہیں : آپ فزع (شدید گھبراہٹ) کی حالت میں اٹھے۔ (ایسے) ڈر رہے تھے (جیسے) قیامت کی ساعت ہو۔ آپ مسجد میں آئے اور اس قدر طویل قیام اور رکوع اور سجود کیا کہ اس سے طویل قیام اور رکوع اور سجود میں نے کبھی زندگی میں نہ دیکھا ہوگا۔ مسلم (5) میں اسماءبنت ابی بکر کی حدیث میں ہے کہ آپ نے ( جلدی میں ) ایک اوڑھنی اٹھالی یہاں تک کہ آپ کو اندازہ ہوا تو آپ نے اسے چھوڑ کر چادر لی۔ (ابن حجر (6) اس کی وضاحت میں کہتے ہیں : مراد یہ کہ آپ چادر لینا چاہتے تھے مگر بے خیالی میں (زنانہ) اوڑھنی لے لی تھی) سنن ابی داؤد میں (7) عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کی حدیث میں ہے کہ اس روز آپ قیام میں کھڑے ہوئے تو گویا رکوع کا نام نہ لیتے تھے۔ رکوع کیا تو اٹھنے کانام نہ لیتے تھے۔رکوع سے اٹھے تو سجدے کو جانے کا نام نہ لیتے تھے۔ پھر آپ نے سجدہ کیا تو سجدے سے اٹھنے کا نام نہ لیتے تھے پھر سجدے سے سر اٹھایا تو گویا دوبارہ سجدے میں جانے کانام نہ تھا۔ پھر سجدے میں گئے تو دوبارہ اٹھنے کا نام نہ تھا۔ پھر آپ سجدے سے اٹھے اور دوسری رکعت میں ویسے ہی کیا۔ پھر آپ نے سجدے کے آخر میں یوں سانسیں بھریں : ”اف اف“ پھر آپ سجدے میں یہ کہتے (سنے گئے): ”خدایا کیا تونے مجھے وعدہ نہیں دیا کہ میرے ان میں ہوتے ہوئے تو ان کو عذاب نہ دے گا اور یہ کہ تو ان کو عذاب نہ دے گا جب تک یہ استغفار کرتے رہیں ؟“
٭٭٭٭٭
یہاں ہم شیخ عبدالعزیز بن فوزان الفوزان کے ایک مضمون سے بھی اختصار کے ساتھ کچھ اقتباسات نقل کریں گے:
آج کی اس مادیت نے دراصل ہمارے اس دور کے بہت سے فرزندوں کو بینائی سے محروم کردیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کےلئے ’اسباب‘ و ’مسببات‘ کے ساتھ ساتھ ’اعمال‘ و ’آثار‘ کے مابین تعلق قائم کرنا دشوار ہورہاہے۔آج آپ دیکھتے ہیں کہ ان تباہیوں کے حوالے سے ان لوگوں کے ’تجزیے‘ اس بات سے آگے نہیں جاتے کہ زمین کا ’چھلکا‘ کہیں سے ’بودا‘ ہوگیا تھا!یا یہ کہ زمین کے اندر کہیں کوئی ’رخنہ‘ یا ’خلا‘ پیدا ہوگیا تھا! یا یہ ’پلیٹوں ‘ کی حرکت تھی ! وغیرہ وغیرہ۔ان ’اسباب‘ کا انکار ہم بھی ہرگز نہیں کرتے۔واقعتا یہ اسباب ہیں ۔ مگر جو چیز جان لی جانا ضروری ہے وہ یہ کہ ان ’مادی اسباب‘ کے پیچھے دراصل کچھ ’شرعی اسباب‘ ہوا کرتے ہیں جو انسانی زندگی پر اتنے بڑے پیمانے پر ایک تباہی لے آنے پر منتج ہوتے ہیں ۔
پس یہ مادی اسباب جو یہ لوگ ذکر کرتے ہیں اگر تجربہ و مشاہدہ کی دنیا میں پایۂ ثبوت کو پہنچ بھی لیں تو ان کی حیثیت اس سے زیادہ بہرحال نہیں کہ گناہوں اور عقوبتوں کے مابین جو ایک تعلق پایا جاتا ہے ان ’شرعی اسباب‘ کے ’شرعی نتائج‘ ظہور میں آنے کےلئے ان ’مادی اسباب‘ کو ایک ذریعہ بنا دیاگیا ہو۔ پس جب لوگ اپنے اخلاق کی پستی کو آجانے دیتے ہیں اور اپنی معاشرتی حالت کو بدتری کی جانب بڑھنے دیتے ہیں تو خدا بھی اپنی اس عافیت کو جو اس نے ان پر کر رکھی ہوتی ہے،اٹھ جانے دیتا ہے۔ تب وہ ان کے امن کو خوف سے، ان کی عزت کو ذلت سے،ان کی دولتمندی کوتنگ دستی سے،صحت کو امراض اور وباؤں سے اور سکھ چین کو آفتوں اور مصیبتوں سے بدل جانے دیتا ہے۔
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ (الشوریٰ:30)
”تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے تو وہ ویسے ہی درگزر کر جاتا ہے“۔
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاء وَالأَرْضِ وَلَـكِن كَذَّبُواْ فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ (الأعراف:96)
”اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے، مگر انہوں نے تو جھٹلایا ، لہٰذا اس بری کمائی کے حساب میں جو وہ سمیٹ رہے تھے ہم نے انہیں پکڑ لیا“۔
خدا متنبہ کرتا ہے کہ لوگ اپنے عمل سے خدا کی ان پر جو نعمت ہے اس کو زوال پذیر نہ جانے دیں ۔خدا کی ان کو جو عافیت حاصل ہے اس کے پھر جانے کا سبب نہ بنیں اور یہ کہ خدا کی ان پر یکایک کوئی نقمت نہ آپڑے:
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ۔أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ  (الأعراف: 97۔ 99)
”پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک ان پر رات کے وقت نہ آجائے گی جبکہ وہ سوئے پڑے ہوں ؟ یا انہیں اطمینان ہوگیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا جبکہ وہ کھیل رہے ہوں ؟ کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں ؟ حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو“۔
ان معاشروں کے وہ طبقے ذرا دیکھیں تو سہی جو آج نمازیں چھوڑ بیٹھے ہیں ۔جو خدا کی حرمات کا پاس تک نہیں کرتے۔بے خوف ہو کر سود کھاتے ہیں ۔شرابیں پی جاتی ہیں ۔بدکاریاں بستیوں میں روز بڑھتی ہیں ۔مخلوق پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں اور لوگوں کا جہاں بس چلے حق مارتے ہیں ۔کیا یہ سب خدا کی چال سے بے خوف ہوگئے ہیں ؟ کیا یہ خدا کی اس وعید کی بابت سوچتے تک نہیں ؟دلوں میں اگر زندگی کی کوئی رمق باقی ہے تو احساس کرادینے کو یہ سب کیا کافی نہیں ؟مومنوں کے اندر خشیت اور رہبت پیدا کردینے کےلئے تو بہت کافی ہے۔ایمان کی نگاہ سے آدمی اس طرف دیکھتا ہے تو جھرجھری آجاتی ہے....
سو جب اس دور میں یوں نافرمانی کا چلن عام ہوا اور اس میں روز بروز اضافہ ہونے لگا تب یہ اجتماعی مصائب بھڑک اٹھے۔ آندھیاں ،طوفان، سیلاب، زلزلے، آتش فشاں ، وبائیں ، متعدی امراض، جنگیں ، آفتیں ، قحط.... یہ وہ بلائیں ہیں جو پچھلے کچھ عرصہ سے دنیا کے اندرروز بروز بڑھنے لگی ہیں اور درحقیقت خدا ان بلاؤں اور آفتوں کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈرا دینا چاہتا ہے اور ان کو اپنی قوت اور سطوت کی یاد دلادینا چاہتا ہے ،اور ان کو انکی اوقات بھی یاد دلا دینا چاہتا ہے کہ وہ اس کے سامنے کس قدر عاجز اورلاچار اور محتاج ہیں اور یہ کہ بندے اگر اس کے امر اور اس کی شریعت کا پاس نہیں کرتے تو اس کو بھی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ کس حال میں مرتے ہیں ۔مخلوق جب ایک بڑے پیمانے پر خدا کی شریعت اور خدا کی تنزیل کو سُنا ان سُنا کردینے لگے اور فساد اور سرکشی میں سرپٹ چلی جانے لگے تو پھر وہ خدا کی نگاہ میں کوئی بھی تو اہمیت نہیں رکھتی!
بخدا یہ آیات ہیں ۔ نشانیاں ہیں ۔تنبیہیں اور سرزنشیں ہیں ۔ اس میں ڈھیروں عبرت ہے۔ وما یعقلھا الا العالمون۔ یہ انہی کو سمجھ آتی ہیں جو علم سے بہرہ ور ہیں ۔ ان کو وہی پاتے ہیں اور وہی ان سے خبردار ہوتے ہیں جن کو دانش سے کچھ حظ ملا ہے۔ رہے وہ لوگ جو دنیا کے ہوچکے اور آخرت کا گھر جن کی سوچ اور خیال سے بھی پرے ہے وہ ان نشانیوں سے اور ان تنبیہوں سے بھلا کیا سیکھیں گے؟ان کی سرکشی و خدا فراموشی اور فساد سے یہ نشانیاں ان کو کیا جھنجھوڑیں گی؟
وما تغنی الأیات والنذر عن قوم لایؤمنون ”نشانیاں اور ڈراوے اس قوم کو کیا فائدہ دیں گی جو یقین کرنے والے ہی نہیں “۔
ونخوفھم فما یزیدھم الا طغیا نا کبیرا(الاسرائ:۹۵) ”ہم ان کو (ان نشانیوں کے ذریعے) ڈراتے ہیں مگر (ہمارا) یہ ڈرانا ان کی سرکشی میں کچھ اور ہی اضافہ کر دیتا ہے“۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
”یا معشر المھاجرین، خمس اذا ابتلیتم بھن، وأعوذ باﷲ أن تدرکوھن: لم تظھر الفاحشة فی قوم قط حتی یعلنوا بھا الا فشا فیھم الطاعون والأوجاع التی لم تکن مضت فی أسلافہم‘ ولم ینقصوا المکیال والمیزان الا ابتلوا بالسنین وشدة المؤنة وجور السلطان، ولم یمنعوا زکاة أموالھم الا منعواالقطر من السماءو لو لا البھائم لم یمطروا، ولم ینقضوا عہداﷲ و عہد رسولہ الا سلط اﷲ علیہم عدوا من غیرھم فأخذوا بعض ما فی أیدیہم، وما لم تحکم أئمتہم بکتاب اﷲ و یتخیروا مما أنزل اﷲ الا جعل اﷲ بأسہم بینہم“ حدیث صحیح رواہ ابن ماجة والحاکم والبزاروالبیہقی والطبرانی وغیرھم
”مہاجرین لوگو! پانچ چیزیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو جاؤ اور میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ تمہارے دور میں وہ پیش آجائیں :
فحش و بدکاری جب بھی کسی قوم میں عام ہوجائے یہاں تک کہ وہ کھل کھلا کر اس کا ارتکاب کرنے لگیں تو ضرور ان میں ایسی وبائیں اور ایسے روگ پھوٹ پڑیں گے جن کا ان کی پہلی نسلوں میں کبھی گزرنہ ہوا ہوگا۔
جب وہ ناپ تول میں کمی کرنے لگیں گے ان کو خشک سالی سے واسطہ پڑے گا۔گرانی و اشیاءکی عدم دستیابی عام ہوگی اور حکمران طبقے کا ستم سہنا پڑے گا۔
جب بھی لوگوں میں زکات نہ دینے (کا رجحان پھیلے گا) تو ان کو آسمان سے پانی ملنا بند ہو جائے گا۔ چرندے نہ ہوں توان کو بارش ملے ہی نہ۔
جب بھی لوگ خدا اور رسول کا عہد توڑیں گے خدا ان پر باہر سے دشمنوں کو مسلط کردے گا جو ان کے ہاتھ میں پکڑی چیز سے (اپنے) حصہ( کا بھتہ) لیں گے۔
جب ان کے حکمران و قائدین کتاب اللہ کی رو سے فیصلے نہ کریں گے اور خدا کے اتارے ہوئے سے (احکام)اخذ نہ کریں گے تو خدا ان کے آپس میں ہی پھوٹ پڑ جانے دے گا“۔
حضرت زینبؓ کی مذکورہ بالا حدیث میں خدا کی اس سنت کی صراحت کردی گئی ہے جس کی رو سے قوموں پر اس وقت تباہیاں آنے لگتی ہیں اور خانہ خرابیاں ہونے لگتی ہیں جب وہاں منکرات سرعام پائے جانے لگیں اور جب خباثت اور غلاظت حد سے بڑھ جائے اور جب اس قوم کے اچھے لوگ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ کر بیٹھ رہیں ۔
بخاری میں حضرت عائشہ سے روایت (4454)ہے کہ:
”میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! جب بادل گھرکر آتے ہیں تو انہیں دیکھ کر لوگ خوش ہوتے ہیں کہ بارش آنے والی ہے۔ مگر میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ یہ دیکھ کر آپ کے چہرے پر تشویش کے آثار دکھائی دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: عائشہ! مجھے کیا تسلی کہ اس کے اندر کوئی عذاب نہ ہو ۔ایک قوم کےلئے آندھی کو ہی ذریعۂ عذاب بنایا گیا تھا۔ ایک قوم نے عذاب آتا دیکھ کر (خوشی سے کہا تھا) یہ گھٹا ہم پر باران لے کر آنے والی ہے“۔
 

(1) بخاری : 983
(2) بخاری : 1002
(3) نسائی : 1485
(4) بخاری : 999، مسلم : 1518
(5) مسلم: 1510
(6) فتح الباری شرح حدیث 982
(7) سنن ابی داؤد: 1009 

بشکریه :ایقاظ

No comments:

Post a Comment

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

ښه انسان د ښو اعمالو په وجه پېژندلې شې کنه ښې خبرې خو بد خلک هم کوې


لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل ملګروسره معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


خپل نوم ، ايمل ادرس ، عنوان ، د اوسيدو ځای او خپله پوښتنه وليکئ


طریقه د کمنټ
Name
URL

لیکل لازمی نه دې اختیارې دې فقط خپل نوم وا لیکا URL


اویا
Anonymous
کلیک کړې
سائیٹ پر آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید.



بحث عن:

البرامج التالية لتصفح أفضل

This Programs for better View

لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل معلومات نظراو تجربه شریک کړئ

MrAbohisham's Channel

هډه وال کے ایس ایم ایس اپنے موبائل میں حاصل کرنے کے لئے اپنا نمبر لکھ کرسائن اپ کردیں پھر آپ کے نمبر میں ایک کوڈ آے وہ یہاں لکھ لیں




که غواړۍ چی ستاسو مقالي، شعرونه او پيغامونه په هډاوال ويب کې د پښتو ژبی مينه والوته وړاندی شي نو د بريښنا ليک له لياري ېي مونږ ته راواستوۍ
اوس تاسوعربی: پشتو :اردو:مضمون او لیکنی راستولئی شی

زمونږ د بريښناليک پته په ﻻندی ډول ده:ـ

hadawal.org@gmail.com

Contact Form

Name

Email *

Message *

د هډه وال وېب , میلمانه

Online User