Search This Blog

Loading...

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته ډېرخوشحال شوم چی تاسی هډاوال ويب ګورۍ الله دی اجرونه درکړي هډاوال ويب پیغام لسانی اوژبنيز او قومي تعصب د بربادۍ لاره ده


اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ




اللهم لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت و لك الحمد بعد الرضى



لاندې لینک مو زموږ دفیسبوک پاڼې ته رسولی شي

هډه وال وېب

https://www.facebook.com/hadawal.org


د عربی ژبی زده کړه arabic language learning

https://www.facebook.com/arabic.anguage.learning
There was an error in this gadget

Sunday, May 4, 2014

گندھارا اور شمال مغربی ہندوستان میں غزنوی مہم



گندھارا اور شمال مغربی ہندوستان میں غزنوی مہم

محمود غزنوی نے ۱۰۰۸ء میں اپنے شمال کی جانب قاراخانی سلطنت پر جو حملہ کیا تھا، اس میں پسپائی کے بعد، اس نے اپنی حکومت کو قاراخانی انتقام سے بچانے کے لیے جنوبی سغد اور خوارزم میں سلجوق ترکوں کو اپنا حامی بنا لیا۔ سلجوقیوں کا تعلق ایک غلام بنالیے جانے والے ترکیائی قبیلے سے تھا جسے سامانیوں نے دفاعی افواج کے طور پر استعمال کیا تھا اور۹۹۰ء کے بعد کی دہائی میں انہیں اسلام کے دائرے میں شامل کرلیا تھا۔ اپنے وطن کی حصولیابی کے بعد، محمود نے اب پھرسے برصغیر ہندوستان کی طرف اپنی توجہ مبذول کی۔
کئی دہائیاں پہلے ۹۶۹ء میں فاطمیوں (۹۱۰۔۱۱۷۱ء) نے مصر پر فتح پائی تھی اور اسے اپنی تیزی سے پھیلتی ہوئی سلطنت کا مرکز بنا دیا تھا، وہ اپنے اسمٰعیلی فرقے کے پرچم کے تلے پوری مسلم دنیا کو متحد کرنے کی خواہش رکھتے تھے تاکہ اسلامی مسیحا موعود کی آمد کے استقبال کی تیاری کرسکیں، جیسا کہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ بارہویں صدی کے آغاز کے ساتھ ایک الہامی جنگ ہوگی جو دنیا کو ختم کردے گی۔ ﴿اور پھر ان کا ظہور ہوگا﴾ ان کاعلاقہٴ اقتدار شمالی افریقہ سے مغربی ایران تک پھیلا ہوا تھا، اور ایک بڑی بحری طاقت کے طور پر، انہوں نے اپنے اثر اور عقیدے کی توسیع کے لیے دور دراز علاقوں تک اپنے سفیروں اور مشنریوں کو روانہ کیا۔ اسلامی دنیا کی سربراہی کے لیے، وہ سنی عباسیوں کے خاص حریف تھے۔
بنوامیہ کی فتح کے بعد سندھ میں مسلم حکومت کے آثار انتہائی کمزور تھے۔ عباسی خلیفا کے لیے سنی العقیدہ گورنروں کی اطاعت بس برائے نام تھی، جب کہ دراصل وہ مقامی ہندو حکمرانوں کے ساتھ اقتدار میں شریک تھے۔ ایک پرامن بقائے باہمی ﴿کے اصول﴾ کے تحت اسلام بدھ مت، ہندومت اور جین مت کے ساتھ چین سے رہ رہا تھا۔ بہر حال، اسمٰعیلی مشنریوں کو وہاں ان کی باتوں پر کان دھرنے والے کچھ لوگ مل گئے جو سنیوں اور ہندوؤں میں صورت حال کی یکسانیت سے اکتائے ہوئے تھے۔ ۹۵۹ء تک شمالی سندھ میں ملتان کا حکمراں اپنا مذہب بدل کر اسمٰعیلی شیعہ ہوگیا، اور ۹۶۸ء میں ملتان نے اپنے آپ کو عباسیوں کے اقتدار سے آزاد ایک اسمٰعیلی فاطمی تابعدار ریاست کے طور پر مشہور کردیا۔ اسی نقطے پر، عباسیوں کو، جن کے ساتھ ان کے تابعدارغزنوی بھی آگئے تھے، مشرق اور مغرب دوسمتوں سے ان کے فاطمی حریفوں نے گھیر لیا۔ ان کے سروں پر اب ﴿ایک ساتھ﴾ دوطرفہ ﴿دو محاذوں سے﴾ حملے کا خوف منڈلا رہا تھا۔ غزنویوں پر حملہ کرنے کے لیے ملتان کے اسمٰعیلیوں کو صرف غزنوی دشمنوں، یعنی کہ ہندو شاہیوں کے علاقے سے گزرنے کی ضرورت تھی۔
ہر چند کہ اس کے باپ نے شیعی اسلام کی حمایت کی تھی، مگر محمود غزنوی نے سنی اسلام اختیار کیا جو صرف عباسیوں کا ہی نہیں، قاراخانیوں اور سامانیوں کا بھی ممتاز عقیدہ تھا۔ اسلام کی دوسری شکلوں ﴿مسالک﴾ کے لیے اپنی عدم رواداری کے باعث وہ خاصا بدنام ہے۔ ۹۹۸ء میں تخت نشین ہونے اور افغانستان میں اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے بعد، ۱۰۰۱ء میں اس نے گندھارا اور اڈیانہ کے ہندو شاہیوں پر حملہ کیا اور اپنے باپ کے دشمن جے پال کو شکست دی جسے وہ خود بھی اپنے لیے ایک امکانی ﴿اور قوی﴾ خطرے کے طور پر دیکھتا تھا۔ ہر چند کہ اوڈیانہ ابھی تک بودھی تنتر کا ایک خاص مرکز تھا، یوں کہ راجہ اندربھوتی اور پدم-سمبھاوا، ہندو شاہی حکومت سے پہلے وہیں سے آئے تھے، یہاں بارونق بودھی خانقاہوں کی کمی تھی۔ اس کے برعکس، یہاں کے ہندو مندورں میں دولت بھری پڑی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ محمود نےانہیں لوٹا اور برباد کردیا۔
اب جے پال کے جانشین آنند پال ﴿دور:۱۰۰۱۔۱۰۱۱ء﴾ نے ملتان کے ساتھ ایک اتحاد کی تشکیل کرلی۔ لیکن ۱۰۰۵ء تک، محمود نے ان کی مشترکہ فوجوں کو شکست دی اور ملتان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا، اس طرح مشرق کی طرف سے سنی عباسی دنیا کے تئیں فاطمی اسمٰعیلی خطرے کو بے اثر کردیا۔ محمود نے اپنے سپاہیوں کو ”غازی” کا لقب دیا، یعنی کہ عقیدے کے لیے جنگ کرنے والے، اور اپنی مہم کو ”جہاد” قرار دیا جس کا مقصد اسمٰعیلی شیعوں کی بدعت کے خلاف راسخ العقیدہ سنی رسوم و آداب کا دفاع کرنا تھا۔ اگرچہ ہوسکتا ہے کہ مذہبی جوش اس کی ترغیب کا حصہ رہا ہو، مگر اس سے زیادہ بڑا حصہ، بلاشبہ، اس کی اس خواہش کا رہا ہو گا کہ اسلامی دنیا کے قائدین کے طور پر وہ عباسیوں کے محافظ کی حیثیت سے اپنے آپ کو قائم کرلے۔ اس طرح کے رول کی ادائیگی، عباسیوں کے ایک تابعدار کی شکل میں اس کی اپنی حکومت کو حق بجانب ثابت کردے گی اور اس نے جو لوٹ مار برپا کی تھی اس کی مدد سے کہیں اور بھی فاطمی مخالف عباسیوں کی مہمات کو معاشی تعاون دیا جاسکے گا۔ مثال کے طور پر، قدیم ہندو سوریہ مندر، ملتان کا سورج مندر، برصغیر ہندوستان کا سب سے دولت مند مندر ہونے کی شہرت رکھتا تھا۔ اس کے خزانوں نے اور زیادہ مال و دولت حاصل کرنے کی غرض سے، مزید مشرق کی طرف محمود کے جانے کی پیاس بڑھا دی۔
قاراخانیوں کے خلاف محمود کی ناکام مہم کے بعد، ۱۰۰۸ء میں وہ پھر ہندوستانی برصغیر کو لوٹ آیا، اور آج کے دور کے ہندوستانی پنجاب اور ہماچل پردیش میں آنند پال اور راجپوت حکمرانوں کے مابین ایک اتحاد کو شکست دے دی۔ اس کے بعد محمود نے ناگر کوٹ ﴿موجودہ کانگڑہ﴾ میں ہندوشاہیوں کا غیرمعمولی طور پر بڑا خزانہ ضبط کرلیا اور آئندہ برسوں میں اس علاقے کے مالدار ہندو مندروں اور بودھی خانقاہوں میں لوٹ مار کے ساتھ تباہی مچا دی۔ اس نے جو بودھی خانقاہیں تباہ کیں ان میں، موجودہ دہلی کے جنوب میں واقع متھرا کی خانقاہیں بھی تھیں۔
۱۰۱۰ء میں محمود نے ملتان کی ایک بغاوت کچلی، پھر ۱۰۱۵ء میں یا ۱۰۲۱ء میں ﴿اس کا انحصار قبول کیے جانے والے ماخذ پر ہے﴾، اس نے اگلے ہندو شاہی حکمراں ترلوچن پال ﴿دور:۱۰۱۱۔۱۰۲۱ء﴾ کا پیچھا کیا جو کشمیر کی طرف جانے والے مغربی دامن کوہ میں واقع، لوہارا قلعے کے مقام پر اپنی فوجوں کو مستحکم کر رہا تھا۔ بہر حال، اس قلعے پر قبضہ حاصل کرنے یا کشمیر پر حملہ کرنے میں محمود کو کبھی بھی کامیابی نہ مل سکی۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ کشمیر کے لوہارا شاہی سلسلے (۱۰۰۳۔۱۱۰۱ء) کے ہندو بانی سنگرام راجا ﴿دور: ۱۰۰۳۔۱۰۲۸ء﴾ نے محمود کو شکست دینے میں کتنا مضبوط کردار ادا کیا تھا۔ روایتی بودھی تذکروں کے مطابق ناروپا کے ایک شاگرد، پرجنارکشتا کے ذریعے پڑھے جانے والے بودھی منتروں نے غزنوی فرماں روا کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
محمود کی فوجوں کی طرف سے ہندوستانی پنجاب اور ہماچل پردیش کی بودھی خانقاہوں کو پہنچا جو بھاری نقصان اس کی وجہ سے بہت سے بودھی پناہ گزینوں نے کہیں اور جا کر پناہ ڈھونڈ لی۔ لیکن، کشمیر کی سمت میں غزنوی سپاہیوں کے حملوں کے ساتھ زیادہ تر پناہ گزیں اپنے آپ کو وہاں محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ لہٰذا، ادھر جانے کے بجائے، پناہ گزینوں کا زبردست ریلا، کانگڑہ سے ہوتے ہوئے ہمالیہ سے آگے تبت میں نگاری کی طرف گیا،۱۰۲۰ء کے بعد کی دہائی میں، وہاں کے راجہ نے ایک قانون کے ذریعے غیرملکیوں پر، اپنے ملک میں تین سال کی مدت سے زیادہ کے لیے، ٹھہرنے پر پابندی عائد کر دی۔
اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ برصغیر ہندوستان میں غزنوی جہاد کا رخ اصلاً بودھوں، ہندوؤں یا جینیوں کی طرف نہیں بلکہ ﴿شروع میں﴾ اسمٰعیلیوں کی جانب تھا۔ تاہم، جب ایک مرتبہ محمود نے اپنا مذہبی اور سیاسی مقصد حاصل کرلیا، تو اس کی کامیابی نے اسے مزید علاقے اور خاص طور پر، ان علاقوں میں واقع دولت مند مندورں اوربودھی خانقاہوں سے لوٹ کا مال حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ جیسا کہ تین صدیاں پہلے بنوامیہ کی مہم کے ساتھ ہوچکا تھا، ترکیائی فوجیوں نے ان علاقوں کو پہلے فتح کیا، پھر انہیں اچھی طرح لوٹنے کے بعد مندروں اور خانقاہوں کو مسمار کردیا، لیکن اپنی تمام نئی رعایا پر، اسلام کو مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی۔ محمود ایک عملی اور حقیقت پسند انسان تھا اور اس نے ان ہندو سپاہیوں کو جنہوں نے مذہب نہیں بدلا تھا، یہاں تک کہ ایک ہندو جنرل کو بھی، آل بوئیہ کے ایران میں، جو شیعہ مسلمان اس سے مزاحم ہوئے، ان کے خلاف استعمال کیا۔ اس کا خاص نشانہ شیعی اور اسمٰعیلی ہی رہے۔

ہندوستان کے باہر بدھ مت کی طرف غزنویوں کے رویّے

فارسی مورخ البیرونی جو برصغیر ہندوستان پر محمود کے حملے کے وقت اس کے ساتھ تھا، اس نے بدھ مت کا تذکرہ توصیفی انداز میں کیا ہے اور لکھا ہے کہ ہندوستانی باشندے بدھ کا نام ایک پیغمبر کے طور پر لیتے ہیں۔ اس سے شاید فارسیٔ میانہ کی اصطلاح ﴿پہلوی﴾ “بروخین” بہ معنی پیغمبر سے اس کی واقفیت ظاہر ہوتی ہے جو بدھ کے لیے سغدیائی اور ویغور متون میں مستعمل تھی اور اس سے پہلے مانوی میں بھی تمام پیغمبروں کے لیے رائج تھی۔ بہر حال، اس سے یہ اشارہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ بودھوں کو ”اہل کتاب” کے طور پر قبول کیا جاتا تھا، ہندؤوں اور جینیوں کے ساتھ ساتھ مندروں اور خانقاہوں کی ابتدائی توڑ پھوڑ کے بعد، یہ لوگ بھی حفاظت یافتہ ﴿یامحفوظ﴾ رعایا یعنی ”ذمی” کا مرتبہ بھی پاسکتے تھے۔
اس تاثر یا نتیجے کی تائید کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ غزنویوں نے سغد، باختر یا کابل پر اپنے پچھلے تسلط کے دوران بدھ مت کے ساتھ کسی طرح کی ایذارسانی کا رویہ اختیار نہیں کیا۔ ۹۸۲ء میں نووہار ﴿خانقاہ کی دیواروں پر﴾ بودھی فریسکوز، یعنی ﴿بدھ کی حیات و تعلیمات پر مبنی تصاویر﴾ ابھی بھی نمایاں تھیں اور وسطی افغانستان میں بامیان کی چٹانوں پر بدھ کی دیو پیکر شبیہوں کو اس وقت کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ البیرونی کی اطلاع کے مطابق ﴿پہلے﴾ ہزار سالہ دور حکومت کے اختتام پر سغد کی جنوبی سرحدوں سے ملحق بودھی خانقاہیں ابھی سرگرم تھیں۔
غزنویوں نے بھی اپنے سے پہلے کے سامانیوں کی طرح، فارسی ثقافت کو فروغ دیا۔ نویں صدی عیسوی سے بارہویں صدی تک مسلسل فارسی اورعربی دونوں کے ادب میں بودھی آثار کی خوبصورتی کے حوالے بھرے پڑے ہیں جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ خانقاہیں اور مسجدیں پرامن طریقے سے ساتھ ساتھ کام کرتی رہتی تھیں۔ مثال کے طور پر اسدی طوسی نے اپنی ۱۰۴۸ء کی تصنیف گرشاسپ نامہ میں کابل کی سوبہار خانقاہ کی رونق کا تذکرہ کیا ہے۔ فارسی شاعری میں اکثر مقامات کی تشبیہہ یوں دی جاتی ہے کہ وہ اتنے خوبصورت ہیں جیسے کہ ”نوبہار” ﴿نووہار﴾۔
بدھ کی شبیہیں، خاص طور سے ” مائیتریا” یعنی کہ مستقبل کے بدھ کی جو شبیہیں نووہار اور بامیان میں ملتی ہیں، ان میں بدھ کے سر کے گرد چاند کا ہالہ ہے۔ اسی سے حسن کے اس شاعرانہ بیان کو تحریک ملی کہ ”بدھ کا چاند جیسا چہرہ” حسن وجمال کی تصویر ہے۔ اس طرح، گیارہویں صدی میں فارسی شاعری کے بعض نمونوں مثلاً عیوقی کی ”ورقہ اور گل شاہ” میں پہلوی لفظ ”بت” پہلے کی سغدیائی اصطلاح ”پرُت” کا جو استعمال کیا گیا وہ ”بدھ” کے لیے ایک مثبت مفہوم کے ساتھ ہے۔ اس کا مطلب ہے بے جنس ﴿غیرجنسی﴾ حسن، اور اس کا اطلاق یکساں طور پر، مردوں اور عورتوں، دونوں پر ہوتا ہے۔
یہ بات واضح نہیں ہے کہ لفظ ”البد” فارسی سے ماخوذ ہے یا سندھ پر امویوں کی فتح کے وقت براہ راست وضع کیا گیا تھا۔ شروع میں بنوامیّہ اس ﴿لفظ﴾ کا استعمال بودھی اور ہندو شبیہوں دونوں کے لیے کرتے تھے اور اسی کے ساتھ ساتھ ان مندروں کے لیے بھی جہاں یہ شبہیں موجود ہوتی تھیں۔ بعض اوقات یہ ان کا استعمال کسی بھی غیرمسلم مندر ﴿عبادت گاہ﴾ کے لیے کرتے تھے چاہے وہ زرتشتی، عیسائی یا یہودی ہو۔ بہر حال، بعد میں اس کا استعمال مثبت اور منفی دونوں معنوں میں ہونے لگا جیسے کہ ”بدھ” اور “بت”۔
یہ تمام حوالہ جات اس واقعے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تیرہویں صدی کے دوران اولین منگول عہد میں، بودھی خانقاہیں اور شبیہیں ایرانی ثقافتی علاقوں میں پائی جاتی تھیں، یا پھر کم از کم، وہاں کے جو بودھی اپنا مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوئے ان کے درمیان صدیوں تک ایک مضبوط بودھی وراثت موجود رہی۔ اگر غزنویوں نے اپنے غیرہندوستانی علاقوں میں بدھ مت کو برداشت کیا، حتٰی کہ اس کی ﴿بودھی﴾ فنی روایت کی تعریف کرنے والے ادبی کارناموں کی سرپرستی کرتے رہے، تو یہ بات انہونی سی لگتی ہے کہ برصغیر میں ان کی طویل مدتی پالیسی تلوار کے ذریعے لوگوں کا مذہب بدلوانے کی رہی ہوگی۔ جیسا کہ بنوامیّہ کے ساتھ ہوا، غزنویوں کے یہاں بھی ﴿دشمنوں پر﴾ فتح حاصل کرنے کا طریقہ وہ نہیں تھا جو ان کی حکومت کا تھا۔

غزنویوں کا زوال اور سلجوقیوں کا عروج

برصغیر ہندوستان میں اپنی فوجی کامرانیوں کے باوجود غزنوی حکمراں اپنے زیر اقتدار سلجوقیوں کو قابومیں نہیں رکھ سکے اور ۱۰۴۰ء میں ثانی الذکر نے بغاوت کردی۔ سلجوقیوں نے خوارزم، سغد اور باختر غزنویوں سے چھین لیے اور ۱۰۵۵ء میں خلفائے بنوعباس کا مرکز بغداد بھی فتح کر لیا۔


No comments:

Post a Comment

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

ښه انسان د ښو اعمالو په وجه پېژندلې شې کنه ښې خبرې خو بد خلک هم کوې


لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل ملګروسره معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


خپل نوم ، ايمل ادرس ، عنوان ، د اوسيدو ځای او خپله پوښتنه وليکئ


طریقه د کمنټ
Name
URL

لیکل لازمی نه دې اختیارې دې فقط خپل نوم وا لیکا URL


اویا
Anonymous
کلیک کړې
سائیٹ پر آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید.



بحث عن:

البرامج التالية لتصفح أفضل

This Programs for better View

لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل معلومات نظراو تجربه شریک کړئ

MrAbohisham's Channel

هډه وال کے ایس ایم ایس اپنے موبائل میں حاصل کرنے کے لئے اپنا نمبر لکھ کرسائن اپ کردیں پھر آپ کے نمبر میں ایک کوڈ آے وہ یہاں لکھ لیں




که غواړۍ چی ستاسو مقالي، شعرونه او پيغامونه په هډاوال ويب کې د پښتو ژبی مينه والوته وړاندی شي نو د بريښنا ليک له لياري ېي مونږ ته راواستوۍ
اوس تاسوعربی: پشتو :اردو:مضمون او لیکنی راستولئی شی

زمونږ د بريښناليک پته په ﻻندی ډول ده:ـ

hadawal.org@gmail.com

Contact Form

Name

Email *

Message *

د هډه وال وېب , میلمانه

Online User