Search This Blog

Loading...

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته ډېرخوشحال شوم چی تاسی هډاوال ويب ګورۍ الله دی اجرونه درکړي هډاوال ويب پیغام لسانی اوژبنيز او قومي تعصب د بربادۍ لاره ده


اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ




اللهم لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت و لك الحمد بعد الرضى



لاندې لینک مو زموږ دفیسبوک پاڼې ته رسولی شي

هډه وال وېب

https://www.facebook.com/hadawal.org


د عربی ژبی زده کړه arabic language learning

https://www.facebook.com/arabic.anguage.learning
There was an error in this gadget

Friday, April 8, 2011

توحید اور رسالت .... اسلام کی دو بنیادیں

 
توحید اور رسالت 
اسلام کی دو بنیادیں
اردو استفادہ
(از امام ابن تیمیہ)

اسلام کی اساس، جو کہ ایمان اور کفر کے درمیان فرق کی اصل بنیاد ہے وہ ہے اللہ کی وحدانیت اور محمد کی رسالت پر ایمان۔ یعنی اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔
اسلام کی یہ دو بنیادیں ہیں۔ بہت سے لوگ اسلام کی ان دو بنیادوں یا ان میں سے کسی ایک کی حقیقت قائم کرنے میں کسی نقص یا خلل کا شکار ہوئے ہیں۔ جبکہ ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ ان کے ہاں توحید کی حقیقت قائم ہے اور جس علم اور معرفت کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان کے ہاں موجود ہے۔
مشرک کا یہ اقرار کرنا کہ اللہ ہر شے کا رب ہے اور ہر چیز کا خالق اور مالک ہے.... اسے اللہ کے عذاب سے چھڑانے کیلئے کافی نہیں جب تک وہ اس کے ساتھ اس بات کا اقرار نہیں کر لیتا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ ایک اس کے سوا کسی اور کا عبادت پر کوئی حق نہیں اور پھر جب تک اس کے ساتھ وہ یہ اقرار نہیں کر لیتا کہ محمد اللہ کے رسول ہیں جس کی رو سے اس پر رسول اللہ کی بتائی ہوئی ہر بات کی تصدیق اور آپ کے دیئے ہوئے ہر حکم کی اطاعت واجب ہو جاتی ہے۔
چنانچہ یہ ضروری ہے کہ اسلام کی ان دونوں بنیادوں کی وضاحت کی جائے:
اسلام کی پہلی بنیاد: اسلام کی پہلی بنیاد الہیت میں خدا کی توحید ہے۔ یعنی بندگی صرف اس کی باقی ہر ایک کی بندگی سراسر باطل۔ اللہ تعالیٰ نے خود ہی بیان فرمایا کہ مشرکوں نے ایسے واسطے گھڑ رکھے تھے اور وہ ان کو (اسی حیثیت میں) پکارتے اور ان کو خدا کے ہاں اپنا سفارشی جانتے جبکہ اللہ نے ان کو اذنِ شفاعت نہیں دے رکھا۔

 وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لا يَضُرُّهُمْ وَلا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلا فِي الأرْضِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ(یونس:
18
 
”یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اے محمد ان سے کہو کیا تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟ پاک ہے وہ اور بالا وبرتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں“۔
چنانچہ آیت کے آخری حصے نے یہ واضح کر دیا کہ یہ لوگ جو خدا کے ہاں ان سفارشیوں کی سفارش پر یقین رکھتے ہیں مشرک ہیں۔
پھر اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورہ یٰسین میں ذکر ہونے والے مومن کے حوالے سے فرمایا:

 
وَمَا لِيَ لا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
 أَأَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً إِنْ يُرِدْنِ الرَّحْمَنُ بِضُرٍّ لا تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلا يُنْقِذُونِ  إِنِّي إِذًا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ  إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ (یٰسین: ٢٢۔٢٥)
”آخر کیوں نہ میں اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے۔ کیا میں اسے چھوڑ کر ایسوں کو معبود بنا لوں کہ اگر خدائے رحمان مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ ان کی شفاعت میرے کسی کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکتے ہیں۔ اگر میں ایسا کروں تو میں صریح گمراہی میں ہوں۔ میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم بھی میری بات مان لو“۔
اسی طرح فرمایا:

 
وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَا كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ(الانعام:
94)
”لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہو گئے۔ جب ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا، جو کچھ ہم نے تمہیں دُنیا میں دیا تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے، تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہو گئے جن کا تم زعم رکھتے تھے“۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سفارشیوں کے بارے میں بیان فرمایا کہ وہ ان کو اپنے معاملے میں خدا کے شریک سمجھتے تھے۔ پھر فرمایا:

 
أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ شُفَعَاءَ قُلْ أَوَلَوْ كَانُوا لا يَمْلِكُونَ شَيْئًا وَلا يَعْقِلُونَ
 قُلْ لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (الزمر: 43۔44)
”کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے؟ ان سے کہو کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ ان کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں؟ کہو شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو“۔

ِ
مَا لَكُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا شَفِيعٍ أَفَلا تَتَذَكَّرُونَ (السجدہ: ٤)
”اس کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی ومددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا“۔

 وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِنْ دُونِهِ وَلِيٌّ وَلا شَفِيعٌ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ (الانعام: ٥١)
”اور اے محمد! تم اس (علم وحی) کے ذریعہ سے ان لوگوں کو نصیحت کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کئے جائیں گے کہ اس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہو گا جو اِن کا حامی ومددگار ہو، یا ان کی سفارش کرے“۔
ِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلا بِإِذْنِهِ  (البقرہ: ٢٥٥)
”کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے“؟

 وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ
 لا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ  يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلا يَشْفَعُونَ إِلا لِمَنِ ارْتَضَى وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ (الانبیاء: ٢٦۔٢٨)
”یہ کہتے ہیں: ”رحمان اولاد رکھتا ہے“ سبحان اللہ، وہ تو بندے ہیںجنہیں عزت دی گئی ہے۔ اس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔ جو کچھ ان کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے۔ وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں“۔

 وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى (النجم: ٢٦)
”آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شحص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے جس کیلئے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے“۔

 
قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ لا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلا فِي الأرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِير
ٍ وَلا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(سبا: ٢٢)
”(اے نبی، ان مشرکین سے) کہو کہ پکار دیکھو اپنے ان معبودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو۔ وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں اور نہ زمین میں۔ وہ آسمان وزمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے۔ اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کیلئے نافع نہیں ہو سکتی بجز اس شخص کے جس کیلئے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو“۔

 
قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلا تَحْوِيلا
 أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًاً (بنی اسرائیل: ٥٦۔٥٧)
”ان سے کہو، پکار دیکھو ان معبودوں کو جن کو تم خدا کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں۔ جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون اس سے قریب تر ہو جائے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق“۔
سلف میں سے ایک جماعت کا قول ہے: کچھ لوگ عزیر کو اور مسیح کو اور ملائکہ کو پکارا کرتے تھے تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ واضح ہو کہ ملائکہ اور انبیا تو خود اللہ کا تقرب پانے کے طلبگار رہتے ہیں جس کیلئے وہ اس کی رحمت کی امید کئے جاتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف کئے جاتے ہیں۔
توحید کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اس بات کی حقیقت جان لے کہ اللہ کا اس پر ایک حق ثابت اور مسلم ہے جس میں کسی مخلوق کا کوئی حصہ نہیں۔ اور وہ ہے اس کی عبادت وپرستش۔ ایک اسی کا سہارا چاہنا اور ایک اسی پر بھروسہ رکھنا۔ اس کا خوف اور اسی کا ڈر اور اسی کا تقویٰ۔ اللہ کا فرمان ہے:

 لا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَخْذُولا(بنی اسرائیل: ٢٢)
”تو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بے یارومددگا ر بیٹھا رہ جائے گا“۔

 
إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ (الزمر:٢)
”(اے محمد) یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے۔ لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو دین کو اسی کیلئے خالص کرتے ہوئے“۔

 
قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ (الزمر:١١)
”(اے نبی) ان سے کہو مجھے حکم دیا گیا کہ دین کو اللہ کیلئے خالص کرکے اس کی بندگی کروں“۔

 
قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ
 وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ  بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ (الزمر:٦٤۔٦٦)
”(اے نبی) اِن سے کہو: ”پھر کیا اے جاہلو، تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کیلئے مجھ سے کہتے ہو“؟ (یہ بات تمہیں ان سے صاف کہہ دینی چاہئے کیونکہ) تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاءکی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تم تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے“ لہٰذا (اے نبی) تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جائو“۔
یہاں جو بھی رسول آیا اس نے اپنی قوم کو ایک ہی بات کہی: اعبدوا اﷲ ما لکم من الہ غیرہ ”کہ ایک اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارے لئے کوئی لائق عبادت ہے نہیں“۔
یہ بات کہ توکل اور سہارا پکڑنے میں کوئی اس کا شریک نہیں، اس کا فرمان ہے:

َ
وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (المائدہ:٢٣)
”اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو“۔
ِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ  (ابراہیم:١١)
”اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے“۔

ِ
قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ (الزمر: ٣٨)
”بس ان سے کہہ دو کہ میرے لئے اللہ ہی کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں“۔

 وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ (التوبہ: ٥٩)
”کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے۔ وہ اپنے فضل سے ہمیں اور بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ہم پر عنایت فرمائے گا۔ ہم اللہ ہی کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں“۔
چنانچہ اس آیت میں جہاں تک دینے کی بات ہے تو فرمایا (ما آتاھم اﷲ ورسولہ) ”اللہ نے ان کو جو دیا اور اس کے رسول نے جو دیا“۔ مگر جب توکل کی بات آئی تو فرمایا (وقالوا حسبنا اﷲ) ”اللہ ہمارے لئے کافی ہے“ یہ نہیں کہا (حسبنا اﷲ ورسولہ) کہ ”ہمارے ئے اللہ اور رسول کافی ہے“۔ کیونکہ مال ودولت دنیا ایک شرعی حق ہے جو کہ جائز اور حلال ہے اور اس شرعی حق کی رو سے رسول نے ان کو مال غنیمت میں سے ان کا حق دیا۔ چنانچہ حلال وہ ہے جسے رسول حلال ٹھہرا دے۔ حرام وہ ہے جسے رسول حرام کہہ دے۔ اور شریعت وہ ہے جو رسول مقرر کر دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا  (الحشر:٧)
”جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے تم کو روک دے اس سے رک جائو“۔
رہا کافی ہونا تو وہ صرف خدا ہے۔ خدا ہی وہ ذات ہے جو بندے کیلئے کافی ہوتا ہے اس میں کوئی اس کا شریک نہیں:

 الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (آل عمران: ١٧٣)
”وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ ”تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوتی ہیں، ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور وہ کہنے لگے: ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے“۔
سو وہ اکیلا ہی ان سب کیلئے کافی ہوا اور وہ ہمیشہ کیلئے کافی ہے۔

 ي
َا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (الانفال: ٦٤)
”اے نبی، تمہارے لئے اور تمہارے پیرو اہل ایمان کے لئے تو بس اللہ کافی ہے“۔
یعنی تجھے بھی اور تیرے پیروکار جتنے مومن ہیں سب کو خدا اکیلا کافی ہے۔ مراد یہ نہیں جیسا کہ اس آیت سے بعض نے غلط طور پر سمجھ لیا: کہ اے نبی تجھے خدا کافی ہے اور وہ مومن جو تیرے پیروکار ہیں۔ پھر خوف وخشیت اور تقویٰ کے بارے میں فرمایا:
 وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ(النور: ٥٢)
”اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کا تقویٰ اختیار کریں“۔
چنانچہ آیت میں اطاعت تو اللہ اور رسول کی بتائی گئی مگر خوف وخشیت اور تقویٰ صرف اللہ سے۔ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔
اسی طرح نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم سے کہا:

 
قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ
 أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ(نوح: ٢۔٣)
”میں تمہارے لئے ایک صاف صاف خبردار کر دینے والا (پیغمبر) ہوں۔ یہ کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو“۔
چنانچہ نوح علیہ السلام نے عبادت اور خوف وتقویٰ پر صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک کا حق بیان فرمایا البتہ اطاعت رسول کی مقرر ٹھہرائی کیونکہ جو رسول کی اطاعت کرتا ہے تو وہ دراصل اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ
اسی طرح اللہ نے فرمایا:
َ فَلا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ  (المائدہ: ٤٤)
”پس تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو“۔ اور فرمایا:

ُ
فَلا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (آل عمران: ١٧٥)
”پس تم انسانوں سے نہ ڈرنا، مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ایمان ہو“۔
پھر خلیل اللہ اپنی قوم کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں:

 وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالأمْنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
 الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الأمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ  (الانعام: ٨١۔٨٢)
”اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کیلئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی واطمینان کا مستحق ہے؟ بتائو اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔ حقیقت میں تو امن انہی لوگوں کیلئے ہے اور راہ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا“۔
صحیحین میں عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس سے صحابہ پر بہت سخت گزری اور وہ کہنے لگے: ہم میں سے کون ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہیں کیا۔ تب رسول اللہ نے (اس کی تفسیر کرتے ہوئے) فرمایا: اس ظلم سے مراد شرک ہے۔ کیا تم لوگوں نے اس نیک انسان (لقمان) کی بات قرآن میں نہیں سنی: (ان الشرک لظلم عظیم) کہ ”شرک ظلم عظیم ہے“۔
اسی طرح اللہ نے حکم دیا ہے:
وایای فارھبون (البقرہ: ٤٠)
”اور مجھ ہی سے تم ڈرو“۔
وایای فاتقون (البقرہ: ٤١)
”اور میرے غضب سے بچو“۔
اسی باب سے یہ بھی ہے کہ نبی اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے:
ومن یطع اﷲ ورسولہ فقد رشد ومن یعصھما فانہ لایضر الا نفسہ ولن یضراﷲ شیا
”جو اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا وہ بھلائی پا جائے گا۔ اور جو اللہ اور رسول کا نافرمان ہو گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ پائے گا“۔
اسی طرح آپ نے فرمایا:
ولا تقولوا ما شاءاﷲ وشاءمحمد۔ ولکن قولوا ماشاءاﷲ ثم شاءمحمد
”یہ نہ کہا کرو جو خدا چاہے اور جو محمد چاہے۔ بلکہ کہا کرو جو خدا چاہے اور پھر جو محمد چاہے“۔
چنانچہ جہاں تک اطاعت کی بات ہے تو اس میں ’اللہ اور رسول‘ کہا۔ لیکن جہاں مشیئت کی بات آئی وہاں اللہ اور پھر رسول۔ کیونکہ رسول کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے۔ لہٰذا جو رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ ہی کی اطاعت کرتا ہے۔ پھر اس طرح اللہ کی اطاعت رسول کی اطاعت بھی ہے مگر مشیئت کے معاملے میں ایسا نہیں۔ کیونکہ بندوں میں سے کسی کی مشیئت بھی خدا کی مشیئت نہیں۔ نہ ہی اللہ کی مشیئت بندوں کی مشیت کو مستلزم ہے۔ بلکہ خدا جو چاہے گا سو ہو گا چاہے بندے نہ بھی چاہیں۔ اور جو بندے چاہیں گے وہ نہیں ہو گا اگر اللہ نہیں چاہتا۔
اسلام کی دوسری بنیاد: اسلام کی دوسری بنیاد یہ ہے کہ بندہ اپنے اوپر رسول کے حق کا اقرار کرے۔ رسول کا حق یہ ہے کہ ہم اس پر ایمان لائیں، اس کی ہر ہر بات مانیں۔ اس کے پیروکار بنیں۔ وہ کام کریں جس سے رسول خوش ہو۔ اس سے محبت کریں اور اس کے فیصلے اور قانون کے آگے سرتسلیم خم کر دیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ (النساء:٨٠)
”جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی“۔
واﷲ ورسولہ احق ان یرضوہ (التوبہ:٦٢)
”اللہ اور رسول اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں“۔

 قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (التوبہ: ٢٤)
”اے نبی، کہدو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز واقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے“۔
پھر اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 
فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء: ٦٥)
”نہیں، اے محمد، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربسرتسلیم کریں“۔

 
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ  (آل عمران: ٣١)
”اے نبی، لوگوں سے کہہ دو کہ ”اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا“۔
غرض ایسی آیات قرآن میں بے شمار ہیں۔
(ماخوذ از الرسالہ التدمریہ .... تالیف امام ابن تیمیہ)

بشکریه :ایقاظ

No comments:

Post a Comment

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

ښه انسان د ښو اعمالو په وجه پېژندلې شې کنه ښې خبرې خو بد خلک هم کوې


لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل ملګروسره معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


خپل نوم ، ايمل ادرس ، عنوان ، د اوسيدو ځای او خپله پوښتنه وليکئ


طریقه د کمنټ
Name
URL

لیکل لازمی نه دې اختیارې دې فقط خپل نوم وا لیکا URL


اویا
Anonymous
کلیک کړې
سائیٹ پر آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید.



بحث عن:

البرامج التالية لتصفح أفضل

This Programs for better View

لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل معلومات نظراو تجربه شریک کړئ

MrAbohisham's Channel

هډه وال کے ایس ایم ایس اپنے موبائل میں حاصل کرنے کے لئے اپنا نمبر لکھ کرسائن اپ کردیں پھر آپ کے نمبر میں ایک کوڈ آے وہ یہاں لکھ لیں




که غواړۍ چی ستاسو مقالي، شعرونه او پيغامونه په هډاوال ويب کې د پښتو ژبی مينه والوته وړاندی شي نو د بريښنا ليک له لياري ېي مونږ ته راواستوۍ
اوس تاسوعربی: پشتو :اردو:مضمون او لیکنی راستولئی شی

زمونږ د بريښناليک پته په ﻻندی ډول ده:ـ

hadawal.org@gmail.com

Contact Form

Name

Email *

Message *

د هډه وال وېب , میلمانه

Online User