ایک تحقیق کے مطابق ایک عورت زندگی میں اوسطاً تین کلو لپ اسٹک کھانے پینے کے دوران جانے انجانے میں حلق سے نیچے اتار لیتی ہے، جس کے نتیجے میں اس میں موجود خطرناک کیمکلز، جیسے سیسہ، کول، ٹار وغیرہ انسانی جسم میں جذب ہوکر کینسر جیسے خطرناک امراض کا موجب بن سکتے ہیں۔


اسکے علاوہ کچھ حساس افراد پر اس کا اثر سردرد، نزلہ، جلدی امراض، غصے کی زیادتی یا دیگر الرجی کی اقسام کی صورت میں جلد ظاہر ہوتا ہے۔

گھٹیا قسم کی لپ اسٹکس جن میں کیمیکلز کی زیادتی ہوتی ہے، کے استعمال سے ہونٹ جلد پھٹنے کا امکان ہوتا ہے، ہونٹ کا سوج جانا، پھوڑے پھنسیاں نکل آنا بھی عام ہے۔

کاسمیٹک انڈسٹری اس طرح کی تحقیقات کو مکمل نظرانداز کرتی آرہی ہے۔

لپ اسٹک کو چیک کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ اسے تھوڑا سا ہاتھ پر لگائیں اور پھر سونے کی انگوٹھی سے اسے کھرچیں اگر اس کا رنگ سیاہ ہوجائے تو اس میں سیسے کی مقدار زیادہ ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔

ایسی لپ اسٹکس نہ خریدیں جو مندرجہ ذیل اشیاء سے بنی ہوں
BHA, Coal Tar Dyes ( i.e.: Quinoline, D&C Yellow #10 and #11,to name a few), Colors with the word "Lakes" after them, FD&C colors, lanolin, fragrances, petroleum products (mineral oil, petrolatum)
صرف قدرتی عناصر سے بنی ہوئی ہی لپ اسٹک خریدیں، جو سردی گرمی میں ہونٹوں کی بخوبی حفاظت کرتی ہیں۔