Search This Blog

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته ډېرخوشحال شوم چی تاسی هډاوال ويب ګورۍ الله دی اجرونه درکړي هډاوال ويب پیغام لسانی اوژبنيز او قومي تعصب د بربادۍ لاره ده


اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ




اللهم لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت و لك الحمد بعد الرضى



لاندې لینک مو زموږ دفیسبوک پاڼې ته رسولی شي

هډه وال وېب

https://www.facebook.com/hadawal.org


د عربی ژبی زده کړه arabic language learning

https://www.facebook.com/arabic.anguage.learning

Monday, January 31, 2011

توحید کا سفر

توحید کا سفر

تالیف:      د/محمد العریفی                                              ترجمہ  :  شیخ  انصار زبیرمحمدی

 الحمد للہ رب  العالمین والعاقبة للمتقین  والصلاة والسلام علٰی أشرف الانبیاء والمرسلین نبینا محمد وعلٰی  آلہ و صحبہ أجمعین و بعد:
عمررضی اللہ عنہ کے عہدمیں مدینہ میں سخت قحط پڑا ،بارش بالکل نہ ہوئی صحابہ کرام نے عمررضی اللہ عنہ سے اس کاشکوہ کیا توعمررضی اللہ عنہ صحابہ کرام کولے کر میدان میں نکل پڑے اورصلاة استسقاء ادافرمائی۔پھراپنے ہاتھ اٹھاکر یہ دعافرمائی:
اے اللہ جب ہم خشک سالی سے دوچار ہوتے توتیرے نبی ٍصلی اللہ علیہ وسلم  کے واسطے سے تجھ سے دعاکرتے تھے ،تب توبارش برساتاتھا،اب تیرے نبی ٍصلی اللہ علیہ وسلم   زندہ نہیں رہے توہم تیرے نبی کے چچاکی دعاکوتیری طرف وسیلہ بناتے ہیں۔پھر عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اورکہااے عباس کھڑے ہوجایئے اورہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعاکیجئے۔  حضرت عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اوراللہ تعالیٰ سے دعامانگی ان کی دعاپر لوگ آمین کہتے،روتے اوردعاکرتے رہے،یہاں تک کہ ان کے اوپربدلی گھرآئی اورجم کر بارش ہوئی۔
        صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایمانی شان دیکھئے،دینی مسائل میں ان کی سوجھ بوجھ ہم سے زیادہ تھی،ان کے دلوں میں بنی کریمٍصلی اللہ علیہ وسلم   کی محبت بھی ہم سے زیادہ تھی،مگرجب انہیں ضرورت پڑتی یامشکل پیش آتی تواپنے نبیٍ صلی اللہ علیہ وسلم   کی قبرپرجاکریہ نہیں کہتے تھے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم   !اللہ سے ہمارے لئے سفارش فرمادیں۔ ہرگزنہیں کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ میت سے دعاکرنی جائز نہیں ہے،خواہ وہ بنی مرسل ہویاولی مقرب،وہ اپنی حاجات کوپوری اورتکالیف کودورکرنے کے لئے اپنے زندہ صالحین کی دعاؤں کاسہارالیتے تھے۔ مگرافسوس اورصدافسوس !آج کے یہ مسکین اورعقل کے مارے  جن کے عقل میں بات نہیں آتی ۔

شرک کے چند وسائل۔

 ١۔غیراللہ کی قسم کھانا:
جیسے کعبہ کی قسم کھانا،امانت کی قسم کھانا،کسی کے شرف اور مرتبہ کی قسم کھانا،کسی کے تبرک کی قسم کھانا، کسی کےزندگی کی قسم کھانا،سرکی قسم کھانا،یاکسی ولی یابزرگ  کے مقام ومرتبہ کی قسم کھانا،یانبی کریم ٍصلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھانا،باپ دادااورماؤں کی قسم کھاناکسی شخص کے لئے جائز نہیں بلکہ سراسر حرام ہے،اسلئے کہ قسم ایک طرح کی تعظیم ہے۔جواللہ کے سواکسی اور کیلئے قطعاًجائزنہیں۔ امام احمدبن حنبل نے عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے مرفوعاروایت کی ہے کہ نبی کریم ۖ نے فرمایا: (  مَنْ حَلَفَ بِغَیرِ ا للَّہِ  فَقَدْ  أ شْرَ کَ)
(رواہ الترمذی وصححہ الألبانی)
 جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔ دوسری روایت میں آپ ٍصلی اللہ علیہ وسلم   کا فرمان ہے کہ  ( مَنْ کَانَ حَا لِفًا فَلْیَحْلِفْ  بِا للَّہِ  أوْ لَیَصْمُتْ  )(رواہ البخاری)
جسے قسم کھانی ہو تواسے چاہئے کہ اللہ کی قسم کھائے،یاپھرخاموش رہے۔
    بعض لوگوں کی زبانوں پر چند شرکیہ الفاظ رائج ہوتے ہیں ،جیسے کسی انسان کایہ کہنا،ماشاء اللہ وشئت جواللہ چاہے اور آپ چاہیں،یااسی طرح یہ کہناکہ اگر اللہ اورآپ نہ ہوتے،میرے لئے توصرف آپ ہیں اور اللہ ہے،ایساتواللہ اور آپ کی برکتوں کی وجہ سے ہے،وغیرہ ۔ یہ سب شرکیہ الفاظ ہیں ، صحیح جملہ یہ ہے کہ اگر اللہ نے چاہاپھر فلاں نے،اگراللہ نہ ہوتا پھرفلاں شخص نہ ہوتاوغیرہ ۔
اگر کسی نے اس عقیدہ کے ساتھ غیراللہ کی قسم کھائی کہ وہ عظمت ومرتبہ میں اللہ کے برابرہے تو یہ شرکِ اکبرہے لیکن اگرغیر اللہ کی قسم کھاتے وقت یہ عقیدہ رکھا کہ وہ ہستی اللہ سے کم تر ہے تویہ شرکِ اصغرہوگا۔بلانیت وارادہ غیراللہ کی قسم کے الفاظ زبان سے اداہوجائیں تواس کا یہ کفارہ ادا کیا جائے،جیساکہ صحیح بخاری میں نبی کریم ٍصلی اللہ علیہ وسلم   کافرمان  ہے: (  مَن  حَلَفَ   فَقَا لَ  فِی حَلفہِ  بِا لَّلا تِ  وَ ا لعُزَّیٰ  فَلیَقُل  لَا اِ لَہَ  اِلَّا   ا للَّہُ  )
 جس نے لات وعزی کی قسم کھائی تواسے چاہئے کہ لاالہ الااللہ کہے۔مگر افسوس کہ بعض لوگ اللہ تعالی کی جھوٹی قسم توکھالیتے ہیں مگر اپنے پیر،ولی اور بزرگ کی جھوٹی قسم کھانے کی ہمت اورجرات نہیں رکھتے۔
 ٢۔ تعویذ گنڈہ لٹکانا:
 نظر بد وغیرہ سے بچنے کیلئے تعویذ، گنڈہ، کا غذ کاپرزہ، گھونگھا، سیپ،کوڑی،کالادھاگا،سکہ،چھوٹاچاقو،ہاتھی کے دانت کی بنی کوئی چیز، (چمڑا)یاہڈی وغیرہ لٹکاناشرک کے وسائل میں سے ہے۔اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ یہ سب چیزیں آفت ومصیبت ٹالنے یادورکرنے کے وسائل ہیں توایساعقیدہ رکھناشرکِ ا صغرہے۔لیکن اگریہ عقیدہ ہو کہ یہ تعویذ گنڈے وغیرہ ازخودمصیبت دورکردیں گے توایساعقیدہ رکھناشرکِ اکبر ہے۔کیونکہ ایساکرنے سے انسان کاتعلق غیراللہ سے جڑجاتاہے۔تعویذ کی دوقسمیں ہیں :
 ١۔قرآنی آیات کی تعویذ:
اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کاغذیاکپڑے یاجلدیاسونے چاندی کی تختی پرقرآنی آیتیں لکھ کرگلے یاہاتھ میں لٹکائی جائیں یابازوپرباندھی جائیں تو ایسا کرنا جائزنہیں ہے۔کیونکہ نبی کریم ٍصلی اللہ علیہ وسلم   کے کسی فعل سے اس کاثبوت نہیںملتا،بلکہ ایسی تعویذیں غیرقرآنی تعویذیں لٹکانے کاراستہ ہموارکرتی ہیں۔
٢۔غیرقرآنی تعویذیں:
جن پرجنوںیاجادوگروں کے نام یاان کے کوڈلکھے ہوں۔ ایسی تعویذیں شرکیہ وسائل میں سے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے کسی آدمی کے گلے سے تعویذکاٹ دی یاتوڑکرپھینک دیا تویہ فعل ایک غلام آزاد کرنے جیساہے۔ 
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے آدمی کودیکھاجس نے اپنے ہاتھوں میں لوہے کاکڑاپہن رکھاتھا۔اس سے پوچھایہ کیاپہن رکھاہے؟جواب دیاواہنہ(ایک بیما ری ) سے بچاؤکے لئے پہنا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اسے نکال کر پھینک دو۔اس سے تمہاری واہنہ کی بیماری اور بڑھے گی۔اوراگراسے لٹکائے ہوئے مرگئے تو  تم کبھی کامیاب نہیں ہوسکوگے۔(رواہ ابن ماجہ وضعفہ الألبانی)
 یہی حال جھاڑپھونک کاہے۔جنہیں مریض پر پڑھ کر دم کیاجاتاہے اگر اللہ کا کلام،اسکے اسماء وصفات،سورة الفاتحہ، ومعوذتین اورماثورہ دعائیں پڑھ کر مریض پر دم کیاجائے تو ایسا کرنا جائزہے۔لیکن جن وملائکہ اورانبیاء واولیاء کانام لیکرپڑھنااورپھونکناغیر اللہ کوپکارنے کے لئے دعاکرنایہ سب شرکِ اکبر ہے۔
  علم غیب کادعویٰ کرنا:
غیب کاعلم اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:  (  قُل لَّا یَعْلَمُ  مَنْ  فِی  ا لسَّمَٰوا تِ وَ ا لأ رْضِ ا لْغَیْبَ  اِلَّا اللَّہُ ) ( سورة النمل :٦٥)
کہہ دیجئے کہ آسمان والوں اور زمین والوں میں سے اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔
 اس آیت میں صراحت کردی گئی ہے کہ علم غیب کامالک صرف اللہ تعالی ہے۔لہذایہ قطعاًناممکن ہے کہ اللہ کے سواکوئی دوسراعلم غیب جانے۔نہ کوئی مقرب فرشتہ،نہ کوئی مرسل نبی،نہ کوئی عبادت گزارولی اورنہ کوئی امام متبوع۔ان میں سے کسی کے پاس بھی غیب کاعلم نہیں ہے۔البتہ اگراللہ تعالی کسی رسول کے پاس غیب کی کچھ خبریں وحی کے ذریعہ بھیج دے تو اسے ان کاعلم ہوجاتاہے۔جیسے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبیٍصلی اللہ علیہ وسلم   کومتعددمرتبہ کفارومشرکین کے مکراوران کی سازشوں سے باخبر کیااورآپ کوقیامت کی نشانیوں سے بھی مطلع کیا۔
   ہتھیلیوں کو پڑھنا،ہاتھوں کی لکیروں اوراس کے ذریعہ مستقبل کاحال بتانا،پانی بھرے پیالہ میں غور سے دیکھ کریاستاروں کی مددسے پیشین گوئی کرنا،کہانت اورجادوگری کے ذریعہ غیب کی خبروں کادعوی کرنایہ تمام چیزیں سراسر جھوٹ اور مکرہیں۔ایساکرنے والاکافر ہے ۔ 
                اگردھوکہ بازجادوگراورشعبدہ باز گم شدہ چیزوں یابعض بیماریوں کے اسباب کے بارے میں صحیح معلومات فراہم کردیں تویہ ان کی غیب دانی نہیں ہوتی بلکہ وہ یہ معلومات جن اور شیاطین سے حاصل کرتے ہیں۔ بعض ضعیف العقیدہ لوگ قیافہ شناسوں اور نجومیوں کے پاس جاکر ان سے اپنے مستقبل اور اپنی شادی اور ہونے والی بیوی وغیرہ کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ایساکرنا سراسر حرام ہے۔ اور علمِ غیب کا مدعی اوراس کی تصدیق کرنے والا دونوں مشرک وکافرہیں۔یہی حال اخبارات وجرائد میں شائع ہونے والے برجوں کوان مقاصدکے لئے دیکھنے یامدعیانِ غیب سے ٹیلیفون پررابطہ قائم کرکے ان سے آئندہ پیش آنے والے امور کے بارے میں دریافت کرنے کاہے۔ غرض یہ کہ علمِ غیب کے مدعی سے کچھ پوچھنااوراس کی تصدیق کرناسراسر حرام اور کفر ہے ۔
جادو ،کہانت اور قیافہ شناسی :
جادومیں منتر،دواؤں،کلام اوردھونی کاعموماً استعمال ہوتاہے۔جادوکی حقیقت مسلم ہے۔جادو دلوں اورجسموں کومتاثرکرتاہے او ر ا نسا  نوں کو مریض بناتاانہیںقتل کرتااورمیاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتاہے۔  جادو گناہ کبیرہ ہے جیساکہ نبی کریمٍصلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایاہے:  سات ہلاک کردینے والی چیزوں سے بچو۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھاوہ کیاہیں؟آپٍصلی اللہ علیہ وسلم   نے ان میں اللہ کے ساتھ شرک اورجادوکا بھی ذکر فرمایا ۔
 (رواہ البخاری)
جادو کے اندرشیطانوں سے مدد لی جاتی ہے۔ ان کے پسندیدہ کاموں کے ذریعہ ان کاتقرب حاصل کیاجاتاہے تاکہ وہ ان جادوگروں کی خدمت بجالائیں۔جادومیں علم غیب کادعوی بھی پایاجاتاہے،جوکہ سراسر کفر ہے۔ اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایاہے  ( اِ نَّمَا صَنَعُوا   کَیْدُ سَاحِرٍ  وَ لَا یُفْلِحُ  ا لسَّا حِرُ حَیْثُ  أ تَیٰ ) (سورة طہ: ٦٩)
انہوں نے جوکچھ بنایاوہ محض جادوگرکاتماشہ ہے اورجادوگرکہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔
جادوگرکاحکم یہ ہے کہ اسے قتل کردیاجائے ،جیساکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت ثابت ہے ۔حیرت کامقام ہے کہ آج ہمارے درمیان لوگ جادوکوبہت معمولی بات سمجھتے ہیں ،بلکہ کبھی کبھی تواسے قابل فخر آرٹ اور فن شمارکیاجاتاہے اورجادوگروں کوایو ارڈسے نوازاجاتاہے ۔جادوگری کی محفلیں اورمقابلے منعقدکئے جاتے ہیں،جس میں ہزاروں کی تعدادمیں ہمت افزائی کرنے والے تماشہ بیں لوگ شریک ہوتے ہیں۔درحقیقت عقیدہ کے باب میں یہ ایک بہت بڑاتساہل اورعظیم غفلت ہے۔
ایمانی غیرت کا ایک واقعہ:
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کسی امیرکے پاس گئے تودیکھاکہ اس کے سامنے ایک جادوگرہاتھ میں تلوارلئے اپنا کھیل دکھارہاہے اورلوگوں کویہ تأثردے رہاہے کہ وہ سرتن سے جداکرکے جوڑ سکتا ہے۔ دوسرے دن  (جندب )رضی اللہ عنہ چادراوڑھے اوراس کے اندر تلوارچھپائے خلیفہ کے دربارمیں داخل ہوئے۔ دیکھاکہ وہی جادوگر آج بھی تلوارکے کھیل دکھا رہاہے، لوگ اس کا کمال دیکھ کر مسحور اورسخت حیر ت میں ہیں ۔ جندب رضی اللہ عنہ اس کے قریب جاکر اچانک اپنی چادر سے تلوارنکال کراس کی گردن قلم کردی،اس کاسراڑکر دورجاپڑا،جادوگرزمین پرگرگیااس کے بعدجندب رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ میں نے نبی کریمٍصلی اللہ علیہ وسلم   کوفرماتے ہوئے سناہے کہ جادوگرکی سزایہ ہے کہ اسے تلوارکے ذریعہ قتل کردیاجائے۔ پھر جادوگرکی طرف متوجہ ہوکرفرماتے ہیں
  أحی نفسک أحی نفسک اپنے آپ کوزندہ کر!اپنے آپ کو زندہ کر۔
کہانت:نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ( مَن  أ تَیٰ کَا ہِناً فَصَدَّ قَہُ  بِمَا یَقُو لُ فَقَد کَفرَ بِمَا أ نزِلَ  عَلیٰ  مَحمَّد ٍصلی اللہ علیہ وسلم   )
(رواہ احمدوابوداؤد والترمذی وابن ماجہ والدارمی)
جوکسی کاہن کے پاس آیااور اس کی کہی ہوئی باتوں کوسچ مان لیاتواس نے نبی کریمٍصلی اللہ علیہ وسلم   کی لائی ہوئی شریعت سے کفرکیا۔
اسلامی بھائیو: ہمیں اپنے ایمان وعقیدہ کی سلامتی کے لئے توحید کی حقیقت کوسمجھناچاہئے ،اﷲ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں توحید خالص کی نعمت عطافرمائے اورہمیں ہرقسم کے شرک وشر سے محفوظ رکھے ،آمین۔

No comments:

Post a Comment

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

ښه انسان د ښو اعمالو په وجه پېژندلې شې کنه ښې خبرې خو بد خلک هم کوې


لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل ملګروسره معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


خپل نوم ، ايمل ادرس ، عنوان ، د اوسيدو ځای او خپله پوښتنه وليکئ


طریقه د کمنټ
Name
URL

لیکل لازمی نه دې اختیارې دې فقط خپل نوم وا لیکا URL


اویا
Anonymous
کلیک کړې
سائیٹ پر آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید.



بحث عن:

البرامج التالية لتصفح أفضل

This Programs for better View

لوستونکودفائدې لپاره تاسوهم خپل معلومات نظراو تجربه شریک کړئ


که غواړۍ چی ستاسو مقالي، شعرونه او پيغامونه په هډاوال ويب کې د پښتو ژبی مينه والوته وړاندی شي نو د بريښنا ليک له لياري ېي مونږ ته راواستوۍ
اوس تاسوعربی: پشتو :اردو:مضمون او لیکنی راستولئی شی

زمونږ د بريښناليک پته په ﻻندی ډول ده:ـ

hadawal.org@gmail.com

Contact Form

Name

Email *

Message *

د هډه وال وېب , میلمانه

Online User